Header Ads

Breaking News
recent

بہادر صحابہؓ

 

*👈 بہادر صحابہ 👉*


عفان: عمار کل تم عشاء کے بعد میچ دیکھنے نہیں آئے، کیا بات تھی؟ کیا کہیں کچھ زیادہ مشغول ہوگئے تھے؟

عمار: اب میرا عشاء کے بعد آنا مشکل ہے، دہلی سے چچا جان آے ہیں اب وہ ایک ماہ رہیں گے، ایک دفعہ میں نے تم کو بتایا تھا کہ چچا ایک بڑے مصنف اور عالم دین ہیں جب وہ آتے ہیں تو پورے گھر میں پڑھنے لکھنے کا ماحول بن جاتا ہے۔

عفان: ہاں وہ تو تم نے بتایا تھا، کیا تمہارے چچا بہت سخت مزاج ہیں وہ تمہیں تھوڑی دیر دوستوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت بھی نہیں دیں گے؟

عمار: ایسی بات نہیں ہے، چچا تو بہت نرم مزاج اور شگفتہ مزاج انسان ہیں، وہ زیادہ روک ٹوک نہیں کرتے مگر ابو اور امی دونوں کی سخت تاکید ہے کہ جب تک چچا یہاں رہیں سب لوگ چچا کے ساتھ رہیں، ان کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں، ان سے زیادہ فائدہ اٹھائیں، ہر دم ان سے کچھ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

عفان: اچھا تو یہ بات ہے، کل تم نے اپنے چچا سے کیا سیکھا؟ 

عمار؛ ان سے تو ہر دم کچھ نہ جاننے اور سیکھنے کا موقع ملتا رہتا ہے، کل صبح انھوں نے ایک کتاب بہادر صحابہ پڑھنے کے لیے دی تھی، شام تک میں نے کتاب ختم کرلی تھی، ویسے بھی کتاب زیادہ ضخیم (موٹی) نہیں تھی، بس یہی کوئی پچاس، ساٹھ صفحے، عشاء کے بعد چچا نے اسی کتاب سے کچھ سوالات کیے۔


عفان: تو کیا پوری کتاب تمہیں یاد ہوگئی تھی؟


عمار: کتاب توجہ سے پڑھی جائے تو بہت سی باتیں یاد رہ جاتی ہیں، چچا نے کہا تھا کہ کتاب توجہ سے پڑھنا، میں کچھ سوالات کروں گا، اس لیے میں نے اور دل لگا کر مطالعہ کیا، الحمدللہ ایک دو سوالوں کو چھوڑ کر میں نے چچا کے تمام سوالات کے جوابات دے دیے تھے۔ 


عفان: ماشاء اللہ، تمہارا حافظہ تو ویسے بھی بہت اچھا ہے، میری امی کہتی ہیں کہ جو بچے نیک ہوتے ہیں ان کا حافظہ اچھا ہوتا ہے، اچھا ذرا ان سوالات کے بارے میں کچھ بتاؤ جو چچا جان نے پوچھے تھے۔


عمار: چچا جان نے پہلا سوال یہ کیا تھا کہ پانچ بہادر صحابہ کے نام بتاؤ، میں نے پانچ کے بجائے دس کے نام بتا دیے۔


عفان؛ واہ، ذرا مجھے بھی بتاؤ، میں تو بس ایک ہی صحابی حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام جانتا ہوں، وہ بھی اس لیے کہ پہلوان اکھاڑے میں پکارتے ہیں یا علی مدد، ایک بار میں نے بابر سے پوچھا کہ پہلوان اکھاڑے میں یا علی مدد کیوں کہتے ہیں تو اس نے بتایا کہ حضرت علی بہت بہادر تھے، ان کی مدد کا نعرہ لگانے سے اللہ کی مدد آجاتی ہے۔


عمار: کیا بے وقوفی کی بات ہے، یا علی مدد کہنے سے اللہ کی مدد کیسے آئے گی، یہ سب کم پڑھے لکھے، ناسمجھ لوگوں کا طریقہ ہے، مسلمان تو صرف یا اللہ مدد کہتا ہے، کسی اور سے مدد مانگے گا تو یہ اللہ کے ساتھ شرک ہوگا اور تم کو معلوم ہے کہ شرک ایک ایسا گناہ ہے جسے اللہ ہرگز معاف نہ کرے گا. ہاں یہ بات درست ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی بہت بہادر صحابی تھے، جو کتاب میں نے پڑھی اس میں حضرت ابوبکر، حضرت علی، حضرت حمزہ، حضرت عمر، حضرت خباب، حضرت معاذ اور معوذ حضرت طلحہ بن عبیداللہ، حضرت زبیر، حضرت رافع اور سمرہ حضرت ام عمارہ اور حضرت خولہ وغیرہ کے واقعات بیان کیے گئے ہیں. 

وہ کتاب دو ماہی گلشن اسلام بھیونڈی کا صحابہ کرام نمبر ہے، گلشن اسلام بچوں کے لیے ایک. بہترین رسالہ ہے، اس کی زبان بہت آسان اور دلچسپ ہوتی ہے۔ 


عفان: ایک بار مجھے بھی گلشن اسلام انعام میں ملا تھا، وہ شمارہ کہانی نمبر تھا، اچھا یہ بتاؤ کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی بہت بہادر تھے؟ 


عمار: بہت بہادر نہیں سب سے بہادر تھے، ایک بار حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا کہ صحابہ میں سب سے بہادر کون تھا؟ 

لوگوں نے کہا اے امیر المومنین سب سے بہادر تو آپ ہیں، حضرت علی نے تین بار یہی سوال کیا اور لوگوں نے ہر بار یہی جواب دیا، اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا صحابہ میں سب سے بہادر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور اس کی مثال غزوہ بدر ہے، اس غزوے میں پیارے نبی کے لیے ایک چھپر بنایا گیا تھا، پیارے نبی نے کہا آج میری حفاظت کون کرے گا؟ 

تین بار آپ نے یہی سوال کیا اور تینوں بار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے رسول میں حاضر ہوں، چنانچہ غزوہ بدر کے موقع پر پیارے نبی کے عریش (چھپر) کی حفاظت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کی، دیگر غزوات میں بھی جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمیشہ پیارے رسول کے دائیں بائیں ہی ہوتے تھے، وہ واقعہ تو تم کو معلوم ہی ہوگا کہ ایک بار صحن کعبہ میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کافر گھیرے ہوئے تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ وہاں گئے اور پیارے نبی کو ان کے شر سے بچایا۔

No comments:

Powered by Blogger.