واقعہ غزوہ تبوک
غزوہ ٔ تبوک کی مہم بہت نازک اور اہم مہم تھی،
کیونکہ قحط کے اس موسم میں قیصر روم کی تجربہ کار، طاقتور اور لاتعداد افواج سے مقابلہ کرنا تو بعد کی بات تھی اس کا تصور کرنا بھی مشکل تھا۔
ایسے میں جب مجاہد اعظم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ کی تیاری کا حکم دیا تو صحابہ کرام رضوان ﷲِ علیہم اجمعینن نے مسجد نبوی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میں عطیات کے ڈھیر لگا دیئے اور صحابیات رضی ﷲ تعالیٰ عنہما نے بھی حُبِ دین میں اپنے زیور اُتار کر حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں ڈھیر کر دیئے۔
نبی اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا۔
گھر کی دیکھ بھال حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے سپرد کی اور مسجد نبوی ﷺ کی امامت کے فرائض حضرت عبدﷲ ابن کلثوم ؓ کے سپرد کئے۔
09 ہجری ماہ رجب میں 30 ہزار بعض کے نزدیک 70 ہزار پر مشتمل مجاہدین رضوان ﷲِ علیہم اجمعین کا لشکر لے کر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ سے اس مشکل ترین مہم پر روانہ ہوئے۔
دوران سفر جب زادِ راہ ختم ہو گیا اور کھانے کو کچھ بھی پاس نہ رہا تو حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی اجازت سے مجاہدین نے اُونٹ ذبح کرکے کھانا شروع کر دیئے۔ حضرت عمر فاروق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ! اس طرح تو تبوک پہنچنے تک سواری کیلئے کچھ بھی نہیں بچے گا چنانچہ عرض کیا جو زادِ راہ اس وقت موجود ہے اُسی میں برکت کیلئے دُعا فرمایئے۔
چنانچہ حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی دُعا سے ﷲ تعالیٰ نے برکت فرمائی اور اُسی خوراک میں اتنا اضافہ ہوا کہ مجاہدین نے سیر ہو کر کھانا شروع کر دیا۔
اس موقعہ پر حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ میں اس کا رسول ہوں’’
جو شخص بغیر شک ان دو کلمات کے ساتھ ﷲ سے ملے گا تو وہ جنت میں داخل ہونے سے نہیں روکا جائے گا‘‘۔
تبوک پہنچ کر سرکارِ کل جہاں صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ﷲ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد پچاس فقرات پر مشتمل ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس کا ایک ایک لفظ آبدار موتیوں کی لڑی اور فصاحت و بلا غت کا ایسا عظیم شاہکار ہے جس میں فطرتِ انسانی کا کوئی گوشہ چھوٹنے نہیں پایا۔
خطبہ کے چند اقتباسات۔ا۔
ارشاد نبوی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ہوا
(1) ’’بلا شبہ سب سے زیادہ سچی بات ﷲ کی کتاب (قرآن مجید) ہے۔
(2) سب سے مضبوط حلقہٗ زنجیر تقویٰ کا ایک لفظ ہے۔
(3) بہترین ملت ابراہیم علیہ السلام کی ملت ہے۔
(4) بہترین سُنت محمد رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ہے۔
(5) سب سے اشرف بات ﷲ کی یاد ہے۔آخر میں تین بار استعفرﷲ فرمایا اور خطبہ ختم فرمای
تبوک میں 20 دن قیام فرما کر دشمن کا انتظار فرمایا مگر رومی اور نصرانی مقابلے کے لئے ہمت نہ کر سکے۔
ہرقل کو جب اُس کے جاسوس نے خبر دی کہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم لشکر کی کمان بھی خود ہی فر رہے ہیں۔
اس خبر کی بھی نفی کر دی کہ مسلمانوں کو خشک سالی نے کمزور کر دیا ہے۔
اگر ایسا ہوتا تو وہ سینکڑوں میل کا دشوار گذار سفر طے کرکے دشمن کی زمین پر آکر کیسے للکارتے۔
ہرقل ان خبروں سے نفسیاتی طور پر اسقدر خوفزدہ ہو گیا کہ مسلمان ہونے کا ارادہ کر لیا مگر مشیروں نے اُسے ایسا نہیں کرنے دیا،
چنانچہ نفسیاتی فتح سیاسی فتح میں تبدیل ہو گئی۔
حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اطراف میں خیر سگالی کے وفود روانہ کئے۔
ایلا (بیت المقدس) کے عیسائی حکمران یوحنا نے خود حاضر ہو کر تحائف پیش کئے جس میں سفید خچر کا تحفہ بھی شامل تھا۔
حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں اہلِ ایلا کو امان کی نشانی کے طور پر اپنی چادر عنایت فر مائی۔
آس پاس کے حکمرانوں نے جب جزیہ دینا منظور کر لیا تو ایلا، اذرح، مقنا اور دومتہ الجندل کے حکمرانوں سے صلح کا تحریری معاہدہ کر کے اسلامی مملکت کی شمالی سرحد کو محفوظ کر لیا۔
چنانچہ صحابہ کرام رضوان ﷲِ علیہم اجمعین کی متفقہ رائے سے مدینہ واپسی کا ارادہ فرمایا جو منافقین بادل نخواستہ مہم میں شریک تھے وہ اس کامیابی پر ناخوش تھے۔
چنانچہ اُنہوں نے سرکار کل جہاں صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو پہاڑی کی چوٹی سے گرانے کی مکروہ سازش کی۔
جسکی خبر وحی کے ذریعے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو مل گئی۔
اُن بارہ منافقوں کے نام حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حذیفہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو بتاتے ہوئے فرمایا کہ کسی پر ظاہر نہ کرنا۔
حضرت حذیفہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے اُن کو قتل کرنے کی اجازت چاہی تو حضور نبی اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کروا دیتے ہیں۔
ماہ شعبان کے آخر یا رمضان کے شروع میں حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ واپس تشریف لائے۔
جبلِ اُحد کو دیکھ کر فرمایا ’’یہ جبلِ اُحد ہے یہ ہم کو محبوب رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں‘‘
مسجد نبوی ﷺ میں دوگانہ نفل شکرانہ ادا کرکے لوگوں کو شرفِ ملاقات بخشا۔
جو لوگ جہاد میں شریک نہ ہوئے اُنہوں نے حاضر خدمت ہو کر عذر پیش کئے۔
تمام قبائل اسلام کی بالا دستی قبول کرنے پر مجبور ہو گئے۔
دور دراز علاقوں سے لوگوں نے آکر اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔
جنہوں نے اسلام قبول نہ کیا اُنہوں نے جزیہ دیکر امان حاصل کی۔
منافقین کی تمام سازشیں ناکام ہو گئیں اور اُن کا پردہ چاک ہو گیا۔
دشمن نے تعداد اور ساز و سامان کے باوجود مقابلے سے پہلو تہی کی جس سے مسلمانوں کی عسکری برتری کو تسلیم کر لیا گیا۔
سرحدی نیم آزاد عربی قبائل بھی اسلام کی طرف راغب ہو گئے۔
اور اُن کی حیثیت رومی اور مسلمان سلطنت کے درمیان ایک عاجز مملکت کی سی رہ گئی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلمانوں کا مورال بلند ہوا اور نامساعد حالات میں بھی بڑی سے بڑی سُپر طاقت سے بھی ٹکرا جانے کا عزم پیدا ہوگیا۔
بے شمار وفود اسلام قبول کرنے کیلئے مدینہ پہنچے تھے اسلئے اُسے وفود کا سال بھی کہا جاتا ہے گوکہ غزوۂ تبوک میں جنگ کی نوبت آئے بغیر کامیابیاں حاصل ہو گئی تھیں تاہم اس غزوہ کو بے حد اہمیت اسلئے بھی حاصل ہوئی کیونکہ اسکے نفسیاتی اثرات قبول کرتے ہوئے مختلف حکومتوں نے صلح کر کے اپنی سیادت کو تسلیم کر لیا تھا جس سے اسلام کی ترقی کی راہیں کھل گئیں اور اسلامی پرچم قیصر و کسریٰ کے علاقوں میں بھی لہرانے لگا۔
ہمیں یوٹیوب پر سبزکرائب کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔


No comments: