زبان تخت پر بٹھاتی بھی ہے اور تخت سے گراتی بھی ہے
عنوان: زبان تخت پر بیٹھاتی بھی ہے اور تخت سے گراتی بھی ہے۔۔
اللہ تعالی نے ہمیں ایک مکمل انسان بنا کر اپنی بےشمار نعمتوں سے نوازا ہے۔انہی میں سے ایک نعمت ہے "زبان"۔جس کی مدد سے ہم کھانا کھانے کے علاوہ بولنے کا بھی بخوبی حق ادا کرتے ہیں۔
اللہ تعالی نے زبان کو بغیر ہڈی کے بنایا ہے تاکہ کسی کو کوئی تکلیف نے ہو ۔۔لیکن ہم جو "اشرف المخلوقات" کے نام سے جانے جاتے ہیں انہوں نے تو قسم اٹھا رکھی ہے کہ ز بان کا کام صرف بولنے میں زیادہ ہے۔۔کھانا پینا تو بعد کا کام ہے۔زبان کی مٹھاس اور کڑواہٹ سے انسان آسمان کو بھی چھو بھی سکتا ہے اور زمین پر گر سکتا ہے۔
اسی بات پر ایک واقعہ یاد آیا جو میں آپ کو ساتھ شیئر کرنا چاہوں گی
ایک دفعہ ایک شخص منڈی میں شہد بیچا کرتا تھا۔اس کے لہجے میں بھی بہت مٹھاس تھی۔وہ اپنے خریداروں کے ساتھ بہت ہی میٹھے لہجے میں بات کرتا تھا۔جس کی وجہ سے اس کا شہد بہت اچھی داموں میں بک جاتا تھا وہ بہت خوش تھا کہ منڈی میں اس کا شہد ہاتھوں ہاتھ بک جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کےخریدار بڑھتے گئے۔کچھ وقت کے بعد اس کو لگا اس کے خریدار کم ہوتے جا رہے ہیں اور اس کا کاروبار کم ہو رہا ہے۔اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔اس نے ایک دن اپنی بیوی سے اس بات کا تذکرہ کیا تو اس کی بیوی نے کہا کہ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کیوں کہ اب تم اپنی خریداروں کے ساتھ میٹھے لہجے میں بات نہیں کرتے۔تمارا شہد تو میٹھا ہے لیکن تمہاری زبان سے مٹھاس ختم ہو گئی ہے ۔اس واقعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ زبان کی مٹھاس ہی انسان کو کئی اُوپر تک پہنچ سکتی ہے۔
ہم انسان بھی کتنے منافق ہوتے ہیں نا۔کسی وقت لہجے میں اتنی مٹھاس بھری ہوتی ہے کہ سامنے والا انسان آپ کا گرویدہ بن جائے اور کسی وقت اتنی کڑواہٹ پیدا ہو جاتی ہے کہ سب سے پیارا انسان بھی آپ سے دور ہو جاتا ہے
معاشرے میں تعلق قائم کرنا اور ایک گھر کو جوڑ کر رکھنے کے لئے زبان اور لہجے میں مٹھاس کا ہونا بہت ضروری ہے اگر یہ نہ ہو تو گھر کا بنے رہنا تو دور کی بات ہے سوسائیٹی میں کوئی آپ کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا۔ضروری نہیں کہ ہر جگہ صرف زبان سے زہر ہی اگلا جائے۔
زبان کی مٹھاس تو اتنا اثر رکھتی ہے کہ یہ کسی کے زخم پر مرہم کا کام کر جائے۔ زبان اور لہجے کا اثر ایسا ہوتا ہے کہ اس سے کسی کے جذبات کو تسکین بھی ملتی ہے اور کی کڑواہٹ سے کسی کے احساسات کو ٹھیس بھی پہنچ سکتی ہے۔اس سے آپ کی شخصیت کا اندازہ ہوتا ہیک آپ کیس قسم کی شخصیت کے مالک ہے۔زبان اور لہجے تو حالات بدل دیتے ہیں۔اس سے بڑی بڑی پریشانیاں ختم بھی ہو سکتی اور پیدا بھی ہو سكتی۔
اب یہ آپ منحصر ہے کہ آپ شہد سی مٹھاس پیدا کر کے آسمان کو چھونا چاہو گے یا ز بان سے زہر اگل کر آسمان سے زمین پر گرنا چاہو گے۔
تحریر: کائنات واجد
@Kainaat__Wajid


No comments: