Header Ads

Breaking News
recent

سلطان ملک شاہ

 


سلطان ملک شاہ


سلطان ملک شاہ ایک مرتبہ اصفہان میں جنگل میں شکار کھیل رہا تھا کسی گاؤں میں قیام ہوا تو وہاں ایک غریب بیوہ کی گائے تھی جس کے دودھ سے تین بچوں کی پرورش ہوتی تھی ایک دن گائے جنگل میں گئی جہاں بادشاہی آدمیوں نے اس گائے کو ذبح کر کے خوب کباب بنائے ،

غریب بڑھیا کو جب خبر ہوئی وہ بدحواس ہو گئی، بادشاہی آدمیوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہ تھی اور کوئی داد و فریاد سننے کو تیار نہ تھا اس پر لاوارث اور ایک غریب عورت، ساری رات اس نے پریشانی میں کاٹی کہ اب کیا کروں گی 

صبح ہوئی دل میں خیال آیا کہ کوئی نہیں سنتا تو نہ سہی، کیا بادشاہ بھی نہیں سنے گا ؟

جس کو خدا نے غریبوں کو ظالموں سے نجات دینے کیلئے اتنی بڑی سلطنت کی ملکیت دی ہے،

  بادشاہ تک پہنچنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی، معلوم ہوا کہ بادشاہ فلاں راستے سے شکار کو نکلے گا جو ایک پل سے گزرتا تھا

 چنانچہ اصفہان کی مشہور نہر کے پل پر جا کر کھڑی ہوگئی جب سلطان پل پر آیا ،تو بڑھیا نے ہمت اور جرأت سے کام لے کر کہا : 

اے اَلَپ ارسلان کے بیٹے سلطان ملک شاہ!  میرا انصاف اسی شہر کے پل پر کرے گا یا پل صراط پر ؟ جو جگہ پسند ہو اپنا انتخاب کر لے 

 بادشاہ کے ہمراہی یہ بے باکی دیکھ کر حیرت زدہ ہوگئے، بادشاہ گھوڑے سے اتر پڑا، اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس عجیب و غریب اور حیرت انگیز سوال کا اس پر خاص اثر ہوا، اور بڑھیا سے کہا : "پل صراط کی طاقت نہیں ہے میں اسی جگہ فیصلہ کرنا چاہتا ہوں،کہو کیا کہتی ہو؟ 

بڑھیا نے اپنا سارا قصہ بیان کیا، بادشاہ نے لشکریوں کی اس نالائق حرکت پر افسوس ظاہر کیا اور ایک گائے کے عوض میں اس کو ستر گائیں دلائیں اور مالا مال کر دیا،

 جب اس بڑھیا نے کہا تمہارے عدل و انصاف سے میں خوش ہوں اور میرا خدا اور رسول خوش ہے تو سلطان ملک شاہ بعد میں گھوڑے پر سوار ہوا

 کیا زمانہ تھا ، کہنے والے کیسے آزاد خیال تھے اور سننے والے کیسے عالی حوصلہ! اگر موجودہ تہذیب وشائستگی کے زمانہ میں کوئی شخص اس طرح حاکم کی سواری روک لے اور اس سے ایسی آزادانہ گفتگو کرے تو شاید آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کیا ہو گا اس کے ساتھ چند دن کی حکومت اور حیثیت کو پتہ نہیں لوگ کیا سمجھتے ہیں 


صابر حسین


@SabirHussain43

No comments:

Powered by Blogger.