آپ نماز کی پابندی کیسے کریں؟؟
آپ نماز کی پابندی کیسے شروع کریں
اگر آپ اب تک نماز نہیں پڑھتے یا نماز کی پابندی نہیں کرتے یا نماز سیکھ ہی نہیں پائے تو آپ کو نماز کے بارے میں اپنے خیالات اور تصورات بدلنے کی ضرورت ہے
۱۔ نماز کی خوبصورتی کا تصور کریں:
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ نماز ایک بہت ہی خوبصورت اور پر لطف عمل ہے۔ یہ مسلمان کے لئے اللہ تعالیٰ کا تحفہ ہے، اور اس کی محبت کا اظہار ہے نماز کی اس طرح قدر کریں اسے اس طرح ادا کریں جیسے کوئی اپنے کسی پیارے کے تحفے کی قدر کرتا ہے اور اسے سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے نماز کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت تک لے جاتی ہے جو دنیا کی دوسری تمام محبتوں سے میٹھی اور خوشبودار ہے اور نماز کی لذت اور خوشی وہ لذت اور خوشی ہے جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی دوسری لذت اور خوشی نہیں کر سکتی
نماز کے بارے میں خوبصورت خیالات اور تصورات قائم کریں
بار بار سوچیں اور خوبصورتی سے سوچیں محبت سے سوچیں محبت سے ذکر کریں
نئی نئی مثال اور نئے نئے طریقے سے سوچیں
۲۔ اپنے دل و دماغ کو نماز کی محبت کے لئے تیار کریں:
اگر آپ کے دل و دماغ میں ایسا کوئی احساس قائم نہ ہو تو ضرور ان میں کسی کی نفرت چھپی ہو گی اس نفرت کو نکال باہر کریں۔ کسی رشتہ دار سے ناراضگی کسی بہن بھائی سے رنجش کسی دوست سے کینہ کسی کولیگ سے خود غرضی یہی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہوتی ہیں جنہوں نے اتنے خوبصورت دل کو برباد کر رکھا ہوتا ہے گندہ اور گرد آلود کر رکھا ہوتا ہے کسی خوبصورت سی خوابگاہ کے جیسے جسے بس کچھ دنوں سے جھاڑ پونچھ نصیب نہ ہوئی ہو اور وہ بیٹھنے کے ہی قابل محسوس نہ ہو رہی ہو
اللہ تعالیٰ کی محبت ہمارے دلوں کے اس کاٹھ کباڑ سے کہیں زیادہ قیمتی ہے ان فضول چیزوں کی چاہت میں اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہاتھ سے نہ جانے دیں
اللہ کی محبت کا مطلب ہے یہ دنیا بھی مل گئی اور آخرت بھی
اپنا دل صاف کریں جیسے جیسے صاف کرتے جائیں گے اس میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور نماز کی سکونیت نازل ہوتی جائے گی سماتی جائے گی
جب تک دل صاف نہیں کریں گے اس میں نماز کی خوبصورتی اور محبت داخل نہیں ہو پائے گی
۳۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کا مطلب کیا ہے؟
دیکھیں اللہ تعالیٰ نے دنیا کے کاموں میں مجبور اور دین کے کاموں میں آزاد پیدا کیا ہے دین آپ کو اپنی مرضی سے اختیار کرنا ہے جس طرح کلمہ پڑھنے پر کوئی زبردستی نہیں ہے نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ بندوں کی طرف سے، اسی طرح دین کے دوسرے کاموں کو اختیار کرنے پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے آپ نے اپنی سمجھ بوجھ سے فیصلہ کرنا ہے اور خود کرنا ہے
دیکھیں، ایسی کئی مثالیں ہیں، کہ انسان کو سچ واضح ہو گیا اور اس نے کلمہ پڑھ لیا حالانکہ اسے صاف دکھائی دے رہا تھا کہ اس کا کیا کیا نقصان ہو گا لیکن اس نے اپنے ہر طرح کے نقصان پر کلمے کو ترجیح دی ماں باپ، رشتہ دار، بیوی بچے، کاروبار، گھر بار، سب کچھ قربان کر دیا
وہ یہ کہہ کر بچ سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے گا تو پڑھ لوں گا
کچھ لوگوں کو نہیں قربان کرنا پڑتا، کچھ لوگوں کو فائدہ بھی ہو جاتا ہے وہ ایسے وقت کا انتظار کرتے ہیں جب کچھ قربان نہ کرنا پڑے
لیکن کس کو کتنا اجر ملتا ہے اس کا فیصلہ آخرت میں ہو گا اجر قربانی پر ہے
۴۔ بعض دفعہ نماز کی خوبصورتی اور محبت پانے کے لئے بھی قربانی دینی پڑتی ہے:
نماز دین کا دوسرا رکن ہے کلمے کے بعد نماز کا ذکر آتا ہے کچھ لوگوں کو نماز کے لئے بھی قربانیاں دینی پڑتی ہیں فیصلہ اس کے ہاتھ میں ہے کوئی اسے مجبور نہیں کر رہا
اگر وہ قربانیاں دینے کی توفیق مانگے گا تو اسے توفیق ملے گی ظاہر ہے قربانیوں کا اجر زیادہ ہو گا
۵۔ تھوڑا تھوڑا کر کے بھی نماز کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے:
اگر پنجگانہ نماز شروع کرنے کی ہمت نہ ہو رہی ہو تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ کر یا اور کوئی وعدہ کر کے نماز جمعہ کی توفیق مانگ لیں
بعض دفعہ انسان کے دل و دماغ میں نماز کا راستہ یا جگہ بنانا کسی پہاڑ میں سرنگ بنانے کے مترادف ہوتا ہے سنگلاخ چٹانوں کو توڑ کر بیچوں بیچ راستے بنانے کے مترادف ہوتا ہے
میں یہ نہیں کہتا کہ نماز ہر مسلمان کے لئے آسان ہے
لیکن میں اتنا ضرور کہتا ہوں کہ اگر ایک بار آپ کو اس کی لذت سے آشنائی حاصل ہو گئی تو پھر دنیا کی کوئی طاقت آپ کو نماز سے غافل نہیں کر پائے گی پھر اللہ تعالیٰ کا فضل ہر صورت میں آپ کے شامل حال ہو گا
باقی یہ ہے کہ اگر ایک بار یہ چشمہ آپ کے اندر سے پھوٹ پڑا تو ارد گرد کی ساری وادی غیر ذی زرع کو تروتازہ اور سبز و شاداب بنا جائے گا
نماز کی لذت اس دنیا کی فانی چیزوں میں سے کسی چیز کے جیسی بھی نہیں ہے بس اللہ تعالیٰ کے قرب جیسی ہے اور قرآن کریم کی تلاوت جیسی ہے
پھر جمعہ عنائت ہو جائے تو فجر مانگ لیں فجر عنائت ہو جائے تو عشاء مانگ لیں، اور عشاء بھی عنائت ہو جائے تو ظہر مانگ لیں ظہر بھی عنائت ہو جائے تو مغرب مانگ لیں اور اگر مغرب بھی عنائت ہو جائے تو اسی محبت سے اسی خلوص سے عصر مانگ لیں
اور اگر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش پر ہے اور وہ بس مانگنے کا انتظار کر رہا ہے تو تہجد بھی مانگ لیں
۶۔ نماز کی توفیق خوش قسمتی ہے:
بس یہ یاد رکھیں کہ ہر نماز اللہ تعالیٰ کا نادر و نایاب تحفہ ہے اس کی محبت کا بے پایاں اظہار ہے اور آپ نے اس کی قدر ایک تحفے کے جیسی ہی کرنی ہے اگر آپ کو نماز عنائت ہو گئی تو سمجھ لیں آپ دنیا کے خوش قسمت انسانوں میں شمار ہونے لگے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے مقربین میں شامل کر لیا ہے
اصل خوش قسمت وہ ہیں جنہیں دین عنائت ہوا جنہیں دنیا کے عہدے اور دولت عنائت ہوئی ہے لیکن دین سے محروم ہیں وہ تو بہت بڑے بدقسمت ہیں
اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے دولت مند نہیں تھے، اور اگر کوئی تھا بھی، تو اسے دولت سے دلچسپی کوئی نہیں تھی
۷۔ نماز کو سجانے والی چیزیں:
نماز اگرچہ دل و دماغ کی عبادت نہیں ہے لیکن اسے دل و دماغ سے ہو کر گزرنا ہوتا ہے بلکہ اسلام نام ہی دل و دماغ کے سدھرنے کا ہے اور دل و دماغ کا مطلب ہے یہ دنیا، یہ ظاہر
اس لئے ماحول اور جسمانی حالت، لباس، آب و ہوا، صفائی، رنگ، موسم بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ خوبصورت جگہوں کی نماز خوبصورت ہو گی
میں یہ کہنا نہیں چاہتا، لیکن سمجھانے کے لئے کہہ رہا ہوں، کہ جیسی ذہنی اور جذباتی حالت ہو گی، ویسی ہی نماز ہو گی، جیسے جسمانی اور ماحولیاتی حالات ہوں گے، ویسی ہی نماز ہو گی۔
بہرحال آپ کو نماز میں بہتری لانے کے لئے اپنی جسمانی اور ارد گرد کی حالت پر توجہ دینا ہو گی، جس طرح آپ کو صحتمند رہنے کے لئے، اپنی غذا اور صفائی ستھرائی پر توجہ دینا ہوتی ہے
اللہ تعالیٰ اور نماز کی محبت کا تقاضہ ہی یہی ہے، کہ اسے خوبصورت سے خوبصورت بنایا جائے اس کا بہترین الفاظ میں ذکر کیا جائے، اور اسے ہر چیز پر ترجیح اور فوقیت دی جائے اگر کوئی کمی کوتاہی سرزد ہو جائے، تو عذر پیش کیا جائے، اور معافی مانگی جائے :
صابر حسین
Follow sabir husain on Twitter
@SabirHussain43


No comments: