کرپٹ کون؟؟؟ ہم عوام یا حکومت؟؟
السلام علیکم
کرپٹ کون ہے ہم عوام یا حکومت
کچھ اہم چیزیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں
گورنمنٹ سکول چاہیے وہ پرائمری ہی کیوں نہ اسکے سمنے گراونڈ لازمی ہوگا جبکہ پرائیویٹ سکول 5 مرلہ کے مکان میں میڑک تک تعلیم دی جاتی ہے
گورنمنٹ کے ہسپتالوں میں حکومت ہر سہولت دی گئی ہے یہ بات الگ ہے کہ اسے عوام نے مال مفت دل بے رحم کی طرح استعمال کر کے خراب کر دیا ہے
آپ کسی بھی سرکاری ہسپتال میں جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں انتظار گائیں ہوں گی جبکہ پرائیویٹ ہسپتال میں یہ سہولت نہیں ہوگی پرائیویٹ ہسپتال صاف ستھرا ہوگا کیوں وہاں صفائی والے کو ڈنڈا دے کے صفائی کرواتے ہیں جبکہ سرکاری ہسپتال میں صفائی والا صرف حاضری لگانے آتا ہے سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹرز کو تنخواہ ہی تب دیتے ہیں جب اسکی کارکردگی اچھی ہو جبکہ سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹرز بطور قصاب کام کرتے ہیں
پوسٹ آفس میں جائیں آپ کو پوسٹ افیسر سویا ہوا ملے گا گورنمنٹ تو اسکو پوری تنخواہ دیتی ہے اور کام کرنے کی دیتی ہے اور پوسٹ آفس بھی گورنمنٹ نے ہر ولیج کونسل میں بنا رکھے ہیں اسکے برعکس TCS وغیرہ کے دفاتر ایک شہر میں ایک ہاں اگر بڑا شہر ہو تو 2 یا 3 برانچیں ہوں گی
لیکن وہاں کام کرنے والے کام کر رہے ہوں گے تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ حکومت کرپٹ کیسے کرپٹ عوام ہیں حکومت نہیں چائیے جس بھی پارٹی کی کیوں نہ ہو
گورنمنٹ ہمیں گلیاں پکی کر کے دیتی ہے نالے بنا کے دیتی پھر عوام انہی نالوں کو شاپر ڈال ڈال کر بند کر دیتے ہیں پھر جب بارش ہوتی ہے تو پانی روڈ پر ہوتا ہے اور عوام احتجاج کر رہی ہوتی ہے
کہ حکومت پیسہ کھا گئی
اصل میں ہمیں سب خامیاں دوسروں میں نظر آتی اور ہم اپنی نظر بہت ہی بہترین انسان ہیں
ہمارے کھر اندر سے صاف ستھرے ہوں گے لیکن گلی بدبودار ہوگی گلی میں جتنے بھی گھر ہوں گے سب ایک دوسرے پہ الزامات لگا رہے ہوں لیکن صاف کوئی بھی نہیں کرے گا
تجاوزات ہم کریں گے جب حکومت تجاوزات گرائے گی تو احتجاج میں بھی سب سے آگے ہم ہی ہوں
درخت ہم کاٹیں گے اور ماحولیاتی الودگی کا شور بھی ہم ہی مچائیں گے لیکن مجال ہے جو درخت لگانے کی زحمت کریں
رشوت ہم ہی دیں گے پھر ہم ہی کہیں گے کہ رشوت لینے اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں
ملاوٹ بھی ہم ہی کریں گے اور پھر ہم ہی کہیں گے کہ ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں
گندگی پھر کریں پھر کہیں گے کہ صفائی نصف ایمان ہے لیکن اس نصف ایمان کو کوئی بھی نہیں اپنائے گا
عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ لگا اب سب کے سب عمران کو ہی کہیں گے کہ تم تبدیلی لاو
تبدیلی تب ہی آئے گی ہم اپنے آپ کو بدلیں گے گھر کا کچرا باہر گلی میں نہیں پھینکیں گے تب
ملاوٹ نہیں کریں گے تب
درخت لگائیں تب
رشوت نہیں دیں گے اور نا ہی لیں گے تب
تجاوزات نہیں کریں تب آئے گی تبدیلی
پاکستان کو آگے لے جانا صرف حکومت کا کام نہیں بلکہ ہر پاکستانی کا کام ہے جب تک ہر پاکستانی اپنے حصے کا اپنی ایمانداری سے نہیں کرتا پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا
اگر ہم نے اپنے آپ کو نہیں بدلہ تو پاکستان کا بچھو کی ماں جیسا ہوگا جس کے اپنے ہی بچے اسے اندر اندر کھا جاتے ہیں


No comments: