Header Ads

Breaking News
recent

افغانستان کی تازہ صورتحال

 


افغانستان کے موجودہ حالات کسی سے پوشیدہ نہیں ایک نئی حکومت ایک طویل جدوجہد کے بعد آنے والی ہے تاریخ میں ذرا پیچھے چلے جائیں تو افغانستان کی غضب کی تاریخ ہے محمود غزنوی سے لیکر احمد شاہ درانی جیسے لوگوں کا مولد اور مسکن رہا ہے 

موجودہ صورتحال اس وقت سے مختلف بلکل نہیں جب روس افغانستان شکست کھا کہ واپس لوٹا افغانستان کے صوبوں اور اضلاع پہ طالبان تیزی سے کنٹرول حاصل کررہے ہیں

  

تازہ ترین اطلاع کے مطابق افغان طالبان نے قندھار شہر پہ حملہ کیا ہے  سنٹرل جیل طالبان کے محاصرے میں ہے تاہم افغان سیکورٹی فورسز کی جانب سے مزاحمت جاری ہے 

افغان حکومت کا کہنا ہے کہ 

‏قندھار کے لوگ پریشان نہ ہوں، صورتحال کنٹرول میں ہے

قندھار کے گورنر، ڈپٹی گورنر، پولیس چیف، سکیورٹی چیف، قبائلی لیڈر اور سپیشل فورسز سب فرنٹ لائن پر مقابلے کےلیے موجود ہیں، شہریوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ 




طالبان کے سیاسی امور کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم کے مطابق افغانستان کے 85% علاقوں پہ طالبان کا کنٹرول ہوچکا ہے انہوں نے روس میں ہونے والے اجلاس کا تذکرہ کرتے ہوئے یاد دلایا کہ ہم ضمانت دیتے ہیں کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں پہ زور دیا کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں 

افغان اردو نے بھی اپریل سے جولائی کے درمیان طالبان کا افغانستان پہ کنٹرول کا نقشہ جاری کردیا ہے جس کے مطابق طالبان بڑی تیزی سے علاقوں پہ کنٹرول  کررہے ہیں 




دوسرے جانب افغان وزیر خارجہ نے طالبان پہ وعدہ خلافی کا الزام لگایا  انہوں نے کہا ہمیں پاکستان سے امیدیں ہیں وہ طالبان کو مذاکرات کے میز پہ لانے میں کردار ادا کریں تاہم گزشتہ روز افغان صدر نے طالبان کے ساتھ پاکستان کو بھی مورد الزام ٹہرایا تھا

افغانستان کی موجودہ صورتحال پہ تجزیہ کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ طالبان کی حکومت آنے کے وجہ سے تحریک طالبان متحرک ہوسکتی ہے 

افغانستان میں خانہ جنگی کی صورتحال ہے کچھ علاقائی جنگجوء بھی طالبان کے خلاف سرگرم ہوچکے ہیں لیکن اکثر علاقوں میں عوام طالبان سے بہتر انداز میں پیش آرہے ہیں ان پہ پھول نچھاور کر کہ ان کا استقبال کررہے صوبہ بدخشان میں ایک ضلعے پہ کنٹرول حاصل کرنے کیلئے تو صرف چار آدمی گئے اور ضلع فتح کرلیا 

افغان طالبان کے ایک جنگجو نے نام ظاہر نہ کرنے کے شرط پہ بتایا کہ ہم انٹرا افغان مذاکرات کیلئے تیار ہیں ہماری جنگ قبض قوتوں کے خلاف تھی غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانوں کو نتیجہ خیز مزاکرات کے طرف آنا ہی پڑے گا ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ دنیا کو ہماری فتح اب کھلے دل سے تسلیم کرنی چاہئے ہم نے بیس سالوں تک جدوجہد اس لئے نہیں کی کہ ہم کسی اور نظام کا حصہ بن جائیں

البتہ افغانستان کا مستقبل افغان ہیں انہی ملکر افغان عوام کے امنگوں کے مطابق فیصلہ کرنا ہوگا انہوں نے مزید کہا دنیا کے سامنے ہمیں جاہل اجڈ اور ظالم کے طور پہ پیش کیا جارہا لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے ہم خود کو افغان عوام کے محافظ سمجھتے ہیں لوگوں کا ہمارے ساتھ رویہ اس بات کی گواہی دے رہا

No comments:

Powered by Blogger.