Header Ads

Breaking News
recent

بس بہت ہوگیا

 


بقول ارشاد بھٹی مستحکم افغانستان مستحکم پاکستان نہیں بلکہ مستحکم پاکستان ہی مستحکم پاکستان ہے بہت کرلیا حکومت پاکستان نے. پہلے امریکیوں کو اڈے فراہم کئے پھر ساز وسامان سپلائی کرنے کیلئے راستہ دیا اس کے جواب میں امریکیوں نے ڈالر کے ساتھ ڈرون حملے دئیے  99 فیصد پاکستانی آج بھی مشرف کی اس پالیسی کی مخالفت کرتے ہیں جناب یہ تھا افغان حکومت پہ پاکستان کا پہلا احسان کیونکہ امریکہ کے بغیر افغان حکومت بیس سال تو دور کی بات ہے بیس مہینے بیس ہفتے بھی نہیں گزارسکتی تھی  یاد رہے میں افغان حکومت کی بات کررہا عوام کی نہیں 

اس جنگ میں ہم نے اپنی اکانومی تباہ وبرباد کی افغان کٹھ پتلی حکومت کی خاطر ہم پہ بیرونی قرضہ کل ملاکہ 116 ارب ڈالر ہے جب کہ ان کی وجہ سے ہمیں 120 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا 

اس جنگ کا حصہ بننے سے ہمارے گھر اجڑ گئے ہماری عورتیں بیوہ اور ہمارے بچے یتیم ہوئے ستر ہزار پاکستانی اس جنگ میں شہید ہوئے بدلے میں ہمیں افغان حکومت سے سوائے الزامات اور دہشتگردی کے اور کیا ملا؟؟؟ 

بھارت نے کٹھ پتلی افغان حکومت کے ساتھ مل کر چند پیسے کیا لگالئے انہوں نے تو اپنا ایمان بیچ دیا بھارت افغانستان میں رہ کر پاکستان میں دہشتگردی کرواتے  ان کی پشت پناہی میں یہی لوگ پشتونوں کو مارتے ہیں اور پھر واویلا بھی کرتے ہیں 

ہم بھلے ہی نعرے لگاتے ہوں افغانستان میں ہم امن چاہتے ہیں اور امن کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں اور ہم نے اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا پہلے شیخ سمیع الحق شہید سے منتیں کرتے تھے کہ کسی طرح طالبان کو مزاکرات کے میز تک لے آؤ  انہوں نے معذرت کی تو انہیں قتل کردیا گیا پورا پاکستان اس دن سوگ کے عالم میں تھا لیکن افغانستان میں حکومت کے حامی جشن منا رہے تھے 

پاکستان  جب طالبان کو مزاکرات کے میز پہ لے آیا تو الزام لگایا کہ پاکستان طالبان کی پشت پناہی کررہا 

ارے پاکستان طالبان کی پشت پناہی کرتا تو اڈے نہ دیتا 

پھر پاکستان سے منتیں کیں کہ طالبان کو انٹرا افغان مزاکرات کیلئے تیار کرو جب دال نہ گلی تو قومی سلامتی کے مشیر سے لیکر امر اللہ صالح اور اشرف غنی تک سب الزامات پہ اتر آئے وزیراعظم نے بھی دفاع کرتے ہوئے جواب دیا 

افغان کٹھ پتلی حکومت کے اعلی عہدیداران سے لیکر اشرف غنی پاکستان کے خلاف زھر اگل رہے ہیں کسی بھی طرح بلیک میل کرنے کی کوشش کررہے ہیں قومی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں اپنا فیصلہ سنانا ہوگا 

اس کو بھی ہم بھول گئے اور پھر افغانستان کے بارے میں افغان حکومت کی حمایت جاری رکھی گزشتہ دنوں اسلام آباد میں سفیر کا معاملہ پیش آیا تو غنی اینڈ کمپنی نے سیکورٹی کا بہانہ بنا کہ اپنا سفیر واپس بلالیا گویا افغانستان میں انہیں فل سیکورٹی مل رہی ہو اس ڈرامے کا سکرپٹ بھی نئی دہلی میں لکھا گیا تاکہ کسی طرح پاکستان کو نیچا دکھایا جاسکے اور بلیک میل کیا جائے

گزشتہ دنوں ڈیورنڈ لائن پہ بھی صدر غنی کا بیان اب ہمیں افغان کٹھ پتلی حکومت سے تعلقات پہ نظر ثانی کا جواز فراہم کررہا

دراصل ان کو افغانستان کے امن سے کوئی سروکار نہیں اس لئے امن کے خواہاں پاکستان پہ دباؤ ڈال رہے ہیں اشرف غنی کو اپنی کرسی جاتی نظر آرہی ہے اور بھارت کو اربوں روپے کی سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آرہی ہے 

اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے افغان معاملے سے ہمیں دور رہنا چاہئے ہم نے پہلے بھی بہت سارے الزامات سہے ہیں اور نہیں سہا جاتا 

افغان حکومت کو چاہئے کہ اپنے مہاجرین بھی واپس بلالے انہی بھی سیکورٹی کا خدشہ ہو سکتا ہے  


پاکستان کو چاہئے کی طالبان جو کہ افغانستان کا مستقبل ہیں ابھی سے تسلیم کرنا چاہئے تاکہ افغان کٹھ پتلیوں کو اینٹ کا جواب پتھر سے ملے 

افغانستان سے اپنا سفیر بھی واپس بلائے کیونکہ یہاں سے زیادہ سیکورٹی خطرات کابل میں لاحق ہیں 

یاد رہے طالبان پہلے ہی یقین دہانی کرواچکے ہیں کہ ان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی جب کہ افغان کٹھ پتلی حکومت کا رویہ ہم سب دیکھ چکے ہیں 

اگر کوئی پالیسی ساز یہ تحریر پڑھ رہا ہے تو ان سے گزارش ہے خدا را ہمیں اب اپنے مستقبل کی فکر کرتے ہوئے اپنی پالیسی بدلنی چاہئے اس پہ  غور کیا جائے

رضوان احمد حقانی 


No comments:

Powered by Blogger.