Header Ads

Breaking News
recent

نیلے پہاڑ پہ کیا گزری؟؟

 


نیلے پہاڑ پر کیا بیتی؟؟

حضرتِ انسان عجیب تخلیق،عجیب عادات و خصائل،عجیب اصول و قوانین کے پیشِ نظر عظیم کائنات کا عظیم کرشمہ،عظیم مخلوق کے طور پر عظیم پہاڑ کے زیرِسایہ ارتقائ مراحل سے لے کر آخری مراحل تک اصول و قوانین کا پابند تمام عجائبات کا مظہر ہے۔تمام مسائل و مساعد ان کے حل کی تلاش کے لئے اپنے اندر چھپی تمام صلاحیتوں اور طاقتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے صفِ اوّل میں شامل اور ہمیشہ مثبت رجحان کا حامل رہا ہے۔ہر تخلیق کنندہ مخصوص طاقت کے حامل دوسری تمام تخلیق کنندہ مخلوقات کے اوپر طاقت اور اصولوں کی زیرنگرانی خاص اختیارات کی وسعت کے قوانین کا غلط استعمال خودکار شان و شوکت کے منافی ہے۔

ہر خلقت کی نقل و حرکت کے اصولوں سے روگردانی بحیثیت انسان ایک ہی حقوق و فرائض کی موجودگی کے پیشِ نظر خود ہی عجائبات،تخلیقات،جمادات،وحیوانات کے اصولوں کے اوپر سودا کرنا عقلمندی تو دور کی بات اور خود کو خود ہی دانشوری کا نام دیتے ہوئے عقلِ حیرت غیر تسلیم شدہ ہے۔ایک جگہ سے آئے ہیں اور ایک جگہ ہی جانا ہےتو اختیارات کی وسعت کا غلط استعمال کہیں اپنی نشاندہی کی قدر و قیمت میں کمی کا باعث نہ بنے؟ یہی نیلے پہاڑ کا اصول ہے۔

 اپنی قدر و قیمت کی وسعت کا اندازہ اختیارات، حقوق و فرائض، عادات و خصائل منفرد اور عملً برتری کے اصولوں کے اوپر عمل پیرا ہو کر دانشمندی کا ثبوت دینا چاہیے۔ارتقائ مراحل کی جانب توجہ گامزن کر کے خالص پن پُراثر تکمیل کی جانب پہلا قدم ہے۔ پہلا قدم مستقبل کی نوید اور ماضی کی دھندلکیوں کے جھٹ جانے کے بعد پہلی صبح کا نام ہے۔پہلی نویدِصبح پہاڑ کی ہریالی۔خوشبو،پودوں کی لہلہاہٹ،پرندوں کی چرچراہٹ کیڑے مکوڑوں کی سرسراہٹ،مکھیوں کی بھنبناہٹ انسانوں کی انسانیت کائنات کے اصولوں کو مضبوط بناتی ہے۔ملکوں،شہروں،گاؤں،قصبوں،دیہاتوں،ان میں موجود سمندروں،دریاوں ہر جگہ نیلے پہاڑ کے اصولوں سے روگردانی کرنےوالوں کی سخت سرزنش کی جاتی ہے۔ہر شعبہ ہائے سے تعلق رکھنے والے افراد کا مقصد پہلی سانس سے لے کر آخری سانس تک عظیم مقصد کے لئے خود کو وقف کر دینا اچھے مقصد کے طور پر تسلیم شدہ ہے۔

  مگر اثرات،ثمرات،بل واسطہ یا بلا واسطہ ہر زیرِسایہ زندگی گزارنے والے افراد کے پاس نیلی روشنی،خوشبوں،خوشیوں سے آراستہ ہو کر پہنچتی رہتی ہے۔ہر مخلوق اپنے قوائد و ضوابط کے زیرنگرانی زندگی گزارنا ایک نئ جدت،امید،مقصد،خواب کو جنم دیتی ہے۔

پھر ایک نئ نسل آتی ہے جو اپنے پُرکیوں پر فخر محسوس کرتی ہے۔

نیلے پہاڑ کا اُس وقت نیا جَنم ہوتا ہے۔پہلے اُسکے اوپر جو گزرتی ہے وہ بھول جاتا ہے۔

افراد کے بقول نیلے پہاڑ کو نیا جنم دن مبارک ہو ۔۔۔۔


شہاب ثاقب 


4 comments:

  1. یہی طرز تحریر آپ کا خاصہ ہے ماشااللہ

    ReplyDelete
  2. اس تحریر میں سوز کا بیان ہے... ماشاء اللہ

    ReplyDelete
  3. شاندار۔۔۔۔
    الفاظ کو سفید چادر میں لپیٹ کر حقیقت کی الماری میں بند کیا گیا ہے۔۔۔۔

    ReplyDelete

Powered by Blogger.