Header Ads

Breaking News
recent

مرد کو درد نہیں ہوتا؟؟؟


مرد کو درد نہیں ہوتا؟



آئیے چند باتیں بتاتے ہیں


صبح صبح دروازہ کھٹکھٹایا وہ چارپائی سے اٹھے دروازہ کھولا تو سامنے ان کی بڑی بیٹی اپنے دو بچوں سمیت کھڑی تھی "بیٹی تم اس وقت؟ تمہارا شوہر کہاں ہے؟ چھوڑنے نہیں آیا؟"

"انہوں نے مجھے طلاق دے دی ہے بابا" لڑکھڑاتی ہوئی آواز جیسے ہی ان کے کانوں میں پڑی کچھ لمحوں کے لیے جیسے ان پر سکتہ طاری ہو گیا

بیٹی کو گلے سے لگایا کچھ بھی پوچھنے کی بجائے اپنی آواز کی کپکپاہٹ پر قابو پاتے ہوئے بولے "بابا ابھی زندہ ہیں میرے بچے بابا ابھی زندہ ہیں

جوان بیٹی کی طلاق نے ان باریش بزرگ کی کمر توڑ تو دی تھی مگر وہ اپنے آنسو بیٹی سے چھپا کر اسے تسلیاں دینے میں لگ گیا


 سارے راستے وہ یہیں سوچتا آیا کہ کس طرح بیوی کو اپنی ملازمت سے نکالے جانے کا بتائے عید سر پر تھی جیب خالی تھی ملازمت اب پتہ نہیں دوبارہ کب ملنی تھی انہیں پریشانیوں میں مبتلا وہ گھر پہنچا "آگئے آپ؟ تھکے ہوں گے آرام کر لیں

پھر شام کو شاپنگ کے لیے چلیں گے چند ہی دن رہ گئے ہیں عید سے

اس ایک جملے نے ان تمام جملوں کو مات دے دی جو وہ سارے راستے ذہن میں بناتا آیا تھا

چہرے پر مسکراہٹ سجائی کہا  

ہاں کیوں نہیں ضرور شام کو تیار رہنا

اور پھر ایک اور پریشانی نے زہن کو منتشر کر دیا قرض کس سے اٹھاوں اب؟


دوپہر کا وقت تھا شدید گرمی کا مارا ہوا وہ کام سے لوٹتے ہی سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ زور سے دروازہ کھٹکھٹایا اٹھا اس نے دروازہ کھولا تو سامنے چھوٹی بہن کھڑی تھی ہاتھ پاوں پھولے ہوئے تھے آنکھیں پانی سے بھری ہوئی اور سانس اکھڑا ہوا اس کا دل زور سے دھڑکا

"کیا ہوا میری شہزادی کو کسی نے کچھ کہا؟

بھیا وہ گلی میں میں کالج سے واپس آ رہی تھی تو گلی میں کچھ لڑکے میرے پیچھے پڑ گئے روزانہ تنگ کرتے ہیں مگر آج تو حد حد ہی کر دی"

اتنا سنتے ہی غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہوگیا وہ باہر کی طرف بھاگا گلی میں پہنچا کوئی نہیں تھا۔ وہ واپس آیا بہن کو پانی پلایا اور اس دن سے آج تک وہ کام پہ جانے سے پہلے خود بہن کو کالج چھوڑ آتا ہے اور واپسی پر خود ہی لے آتا ہے


میرے دوست کی ماں کا آپریشن تھا ہسپتال جاتے ہوئے سارے راستے میں یہیں سوچتا رہا کہ اس نے آپریشن کے لیے اتنی بڑی رقم کا انتظام کیسے کیا 

ہسپتال پہنچا تو وہ ایک طرف کرسی پر نڈھال پڑا تھا ایک لمحے کو مجھے

لگا کہ جیسے آپریشن اس کا ہوا ہے جب نزدیک پہنچا تو وہ مجھے شدید بیمار لگا پیٹ کے ایک طرف ہاتھ رکھے ہوئے تھا

کیا ہوا ہے یار تم ٹھیک تو ہو؟ 

وہ زبردستی مسکرایا

"ہاں میں ٹھیک ہوں"

اسی لمحے کچھ سوچ کر میں لرزا گیا میں نے مشکوک انداز میں اس سے پوچھا

پیسے کہاں سے آئے؟

 کہیں تم نے ؟ ہاں ایک گردہ بیچ دیا  ماں سے بھی بڑھ کر کچھ ہے کیا 

ہم اکثر مرد کا ایک ہی روپ ہی دیکھتے ہیں کہ وہ ظالم جابر اور ہوس پرست ہے مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ مرد کے اور بھی کئی روپ ہیں

وہ باپ , بیٹا , بھائی اور شوہر کی شکل میں عورت کا محافظ بھی ہے اگرچہ ہمارے معاشرے میں جاہل انسانوں کی سوچ ہے کہ مرد کو ہی تمام حقوق حاصل ہیں مرد حاوی ہے

عزتیں محفوظ نہیں ہیں مگر اسی معاشرے میں وہ مرد بھی موجود ہیں جو خود کو دھوپ میں رکھ کر اپنے گھر کی خواتین پر چھاؤں کیے ہوئے ہیں

اللہ پاک ایسے مردوں کو سلامت رکھیں آمین


صابر حسین چانڈیو 


@SabirHussain43

No comments:

Powered by Blogger.