پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک
پاکستان اور اس کی ہمسایہ ممالک !!
یہ 14 اگست 1947 ، 27 رمضان المبارک کا مبارک دن تھا
جب برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی ظلم و ستم کی ایک لمبی رات گزارنے کے بعد ان کی قربانیوں اور بزرگوں کی دعاؤں نے ، اثر دکھایا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان وجود میں آیا ۔
بظاہر تو تقسیم کے بعد مسلمانوں کے حصے میں کچھ خاص زر اور دولت کی صورت میں نہ آیا ۔
لیکن اللّٰــــــہ پاک کے کرم نے ہمیشہ اس قوم کو آغوش میں رکھا اور یہ ملک بہت ساری جنگوں اور حادثات کے باوجود قائم رہا۔
یہاں تک کے اس ملک کے حکمرانوں نے اسے تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔
40 سال کے قریب اس ملک پر فوج نے حکمرانی کی اور 34 سال یہ ملک جمہوری حکمرانوں کے تسلط میں رہا ، لیکن کوئی حکمران بھی ہمیں بہتری کی طرف نہ لے جا سکا ۔
اب بات کرتے ہے پاکستان کے محلے وقوع پر پاکستان کے ایک طرف ہندوستان ہمارا ایک بڑا ہمسایہ ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان امن ایک خواب سا نظر آتا ہے ،
جب بھی یہ دونوں ملک مذاکرات کیلئے امن کی میز پر بیٹھتے ہیں تو غیر ملکی شر پسند عناصر ان کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہے ۔
حالانکہ امن ان دونوں ملکوں کے مفاد اور ترقی کا ضامن ہے ،
پاکستان کا سب سے دوسرا بڑا ہمسایہ افغانستان ہے دونوں ملکوں کی سر حد تقریباً 2500 کلومیٹر طویل ہے ۔
جیسا کہ افغانستان کی تاریخ کا ہر ایک کو علم ہے کہ یہ ملک پچھلے 45 سال سے حالت جنگ میں ہے اور پاکستان نے اتنے سالوں سے افغان مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے اور 50 لاکھ افغان مہاجرین کو گھر کا فرد بنا کے رکھا ہے ، لیکن افغان جنگ صرف ان تک محدود نہ رہی بلکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے ساتھ ساتھ خیبر پختون خواہ پورے صوبے کو متاثر کیا بلکہ پورے پاکستان کو ۔
تیسری جانب ایران ہے جو گزشتہ کہی دہائیوں سے پوری دنیا کی طرف سے پابندیوں کا شکار ہے ،
حالانکہ ایران کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں
لیکن دنیاوی پالیسیوں کی وجہ سے ہم ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار نہیں کر سکتے اور ہماری خوشحالی میں بڑی وجہ ہے یہ ؟
چوتھا ہمسایہ ملک چائنہ ہے جو کہ پاکستان کا اچھا دوست ملک ہونے کے ساتھ ساتھ مشکل حالات میں پاکستان کی معاونت بھی کرتا ہے ۔
پاک چائنہ کوریڈور دونوں ملکوں کے مفادات کیلئے بہت ضروری ہے اور پاکستان کیلئے امید کی کرن ہے ۔
اس کوریڈور کی تکمیل کے بعد پاکستان خوشحالی کی طرف گامزن ہو گا ۔
ان ممالک میں واحد چائنہ کی طرف سے ہمیں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آتا ،
باقی پڑوسی تو پاکستان کیلئے درد سر سے کم نہیں۔
دانشور کہتے ہیں کہ اگر آپکا ہمسایہ اچھا ہے تو یہ بھی اللّٰــــــہ کی طرف سے ایک نعمت ہے ۔
اب ایک طرف تو ہم جنگی جنون میں مبتلا اپنے ہمسایہ ملک انڈیا کو دیکھتے ہیں جو آئے روز پاکستان پے چڑھ دوڑنے کی کوششیں کرتا نظر آتا ہے ۔
دوسری طرف افغانستان میں طالبان کا 70 % علاقہ پر کنٹرول اور افغان گورنمنٹ کی بین الاقوامی امداد کی خبریں،
پھر ہمیں 2002 سے 2008 تک کے واقعات کے عندیہ دے رہی ہیں۔
اور تیسری طرف ایران اور امریکہ کے کشیدہ صورتحال پریشانی کا سگنل دے رہیں ہے ۔
رہی سہی کسر کرونا نے نکال دی ہے پچھلے ڈیڑھ سال سے مزدور طبقہ ہمارے ملک میں بد حالی کا شکار ہے ،
2021 اس ملک کیلئے ابھی تک خاصا امتحانوں کا سال رہا ہے ،
لیکن بحیثیت مسلمان ہم کبھی بھی اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہیں ہو سکتے۔
کیوں کہ جس رب نے 74 سالوں سے اس ملک کو شاد و آباد رکھا اور انشاءاللہ وہ ہمیں آگے بھی اپنی رحمت سے محروم نہیں رکھے گا ۔
آمین
پیوستہ رہ شجر سے
امید بہار رکھ ۔


No comments: