Header Ads

Breaking News
recent

عید قرباں پہ خوشیاں بانٹیں نفرتیں قربان کریں


 

‏عید قرباں پر خوشیاں بانٹیں نفرتین قربان کریں!


اس عید پر قربانی کے جانور کو ذبح کرتے وقت قربان کردیجئے اپنی اناء کو اپنی حسد اور بغض کو جن پیاروں سے کسی وجہ سے ناراض ہیں ان کو سینے سے لگائیں محبت کا پیغام عام کریں نفرتوں کو دل سے نکالیں کوئ آپ سے بات نہیں کرتا ،آپ کے گھر کئ سالوں سے نہیں آتے آپ کو عید مبارک کا پیغام نہیں بھجتے تو آپ پہل کیجئے آپ دل سے کینہ بغض نکال کر آگے بڑھیں بچالیجئے اپنے ان ختم ہوتے رشتوں کو عید تو اسی جذبے کا نام ہے ،عید پر جانور کی قربانی کریں تو سب سے پہلے ان غریب گھرانوں میں سب سے پہلے گوشت بھیجیں جو سارا سال گوشت کھانے کی استطاعت نہیں رکھتے ان بچوں پر شفقت کا ہاتھ رکھین جو اس محبت کے انتظار میں کئ عرصے سے منتظر ہیں ،حضرت ابراہیم علیہ سلام اللہ پاک کے حکم کو بجا لاتے ہوئے اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ سلام کو بھی قربان کرنے سے نہیں گھبرائے اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنے لخت جگر کی گردن پر چھری پھیرنے سے بھی نا گھبرائے ،اللہ پاک کو اس باپ بیٹے کا یہ جذبہ بڑا پسند آیا اور اپنی قدرت سے حضرت اسماعیل رضہ کی جگہ دنبہ بھیج دیا اور اس طرح سے عید قربان پر جانور کی قربانی کا فریضہ شروع ہوا جو تاقیامت جاری رہے گا لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے ہمیں اس جانور کی قربانی کا فریضہ تو یاد رہا لیکن اس دن باپ بیٹے کے درمیان کیا بات ہوئ کس جذبے کے ساتھ انہوں نے اللہ کا حکم بجالایا اس جذبے کو ہم یاد نہیں کرتے ،ہمیں بھی اللہ پاک کا ہر حکم اسی جذبے کے ساتھ ماننا چاہیے ،ہم لوگ تو گوشت کی تقسیم میں بھی دکھاوا کرتے ہیں یا پہلے اپنے لئے بہت سارا گوشت جمع کرکے رکھ لیتے ہیں ،غریبوں کو دو چار بوٹیاں دے کر سمجھتے ہیں ہم نے کوئ بڑا احسان کردیا اور اپنے فرائض پورے کردیئے حالانکہ ایسا نہیں ہوتا ہم حرص اور لالچ میں اس حد تک جاچکے ہیں کہ ہمیں کسی اور کا احساس تک نہیں ہوتا ہم کسی غریب کے احساسات کا زرا بھی خیال نہیں رکھتے جو کہ سراسر ناانصافی ہے نا صرف ان غریبوں کے ساتھ بلکہ اپنے ساتھ بھی اس لئے برائے کرم احساس پیدا کیجئے یقین کریں آپ کی وجہ سے کسی غریب گھرانے کے بچوں نے اگر جی بھر کے ایک دن گوشت کھالیا اور ان کے دل سے اس خوشی میں آپ کے لئے کوئ دعا نکل آئ تو سمجھیں آپ کی زندگی سنورگئ اللہ پاک اسی دعاوں کے صدقے آپ کے گھر پر آنے والی کئ آفات ،پریشانیوں سے سارا سال بچائے رکھیں گے 

ہمیں اللہ پاک نے صاحب استطاعت بنایا ہے ہم اللہ کا فضل وکرم سے کسی غیر کے آگے ہاتھ پھیلانے والوں میں سے نہیں تو کیوں نا ہم بھی ان پھیلاتے ہاتھوں کو تھام لیں ان کو ایک دن کی سہی اپنی طرف سے خوشی کا تحفہ دیں اپنا فریج بھر کے نا رکھیں بلکہ بانٹنے کی عادت ڈالئے یقین کریں آپ بانٹنے والے بن جائیں ،مستحقین کی ضروریات کو پورا کرنے والے بن جائیں اپنے پیاروں کے درمیان رنجشیں ختم کرکے خوشیاں بانٹیں ہر طرف مسکراہٹیں بکھیریں تو دیکھیں وہ خالق قدرت کس طرح آپ کی زندگی خوشیوں سے بھردے گا کیسے آپ کی پریشانیاں،غم ،آفتیں ،مصیبتیں اور تنگدستی سے آپ کو چھٹکارا مل جائے گا

میں کوئ عالم دین یا مفتی نہیں اس لئے میری اس تحریر میں کہیں کوئ غلطی ہوگئ ہو تو معافی کا طلبگار رہوں گا 

آپ سے وہ باتیں شیئر کی ہیں جو میرے علم میں ہیں یقینن قارئین کے پاس ہم سے کہیں ذیادہ علم ہوگا بس میری یہ چھوٹی سی کاوش صرف اس ایک نقطے پر ہے کہ ہم اسلام کے اصولوں اور آقائے دو جہان محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے والے بن جائیں تو یقین کریں ہماری دنیا و آخرت سنور جائے 

شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال رح نے کیا خوب کہا کہ 

کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں 

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں 


بس رب العالمین ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے ہمیں سنت ابراہیمی کے حقیقی فلسفے پر چلنے کی توفیق دے ،یقین کریں ہم سب اگر حقیقی طور اسلامی اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزارنا شروع کردیں تو ہماری آخرت سنور جانی ہے 

اللہ پاک ہم سب پر اپنا خاص کرم فرمائیں آمین  

ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر


No comments:

Powered by Blogger.