ترقی میں قیادت کا کردار
ترقی میں قیادت کا کردار
تحریر: سمیر خان
دنیا میں دو سو سے زائد ممالک ہیں ان میں بعض ایسے ممالک ہے جس کے آبادی لاکھوں میں ہے جبکہ بعض ایسے بھی ہے جس کی کروڑوں میں شمار کی گئی ہے اور اگر کچھ ایسے ممالک کا ذکر کیا جائے جس کی آبادی ایک ارب سے بھی تجاوز کر گئی ہے تو اس میں چائنا اور انڈیا سرفہرست ہے۔ایک اندازے کے مطابق دنیا کے ان سب ممالک کی آبادی تقریبا آٹھ ارب بنتی ہے۔ یہ آٹھ ارب انسان بظاہر تو ایک جیسے دکھتے ہیں،مگر ان کے رہن سہن عادات و اطوار زبان تہذیب اور مذہب میں تضاد کی بنا پر دنیاوی دانشوروں نے ان کی درجہ بندی قوموں کی صورت میں کی ہے۔ اللہ تعالی نے کسی بھی قوم کے ہر فرد کو یہ صلاحیت بخشی ہیں کہ وہ حق کی حوصلہ افزائی کریں جب کہ باطل کی حوصلہ شکنی کرے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی قوم کے سارے افراد حق کو حق اور باطل کو باطل سمجھتے ہیں؟تو جواب یہ ہے کہ نہیں دنیا کی کل آبادی اس قابل نہیں کہ حق کی بجا حوصلہافزائی کرسکے اور باطل کی حوصلہ شکنی البتہ ہر قوم میں کچھ ایسے افراد پائے جاتے ہیں جویہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس کام اور کس بات کو کیسے سپورٹ کیا جاتا ہے، جب کہ کس کام اور کس بات پر کیسے تنقید کی جاتی ہے۔
اگرچہ بہت سی آبادی اس نعمت سے محروم ہے لیکن صدیوں سے اسے عام فرد تک پہنچانے کے لیے جن لوگوں نے دن رات محنت کی وہ رہنما کہلائے جاتے ہیں، انہوں نے عام لوگوں کو صحیح و غلط اور فائدہ ونقصان میں تمیز کرنے کا پرچار کیا۔
جب رہنما کی یہ پرچار کامیاب ہوتی ہے تو اس کے لوگ دنیا کے دوسرے لوگوں سے ممتاز بن جاتے ہیں، جسے عام الفاظ میں ترقی کہتے ہیں کہ فلاں لوگوں نے ترقی کی ہے۔
آج کل کے رہنماؤں کی اگر بات کی جائے تو یہ اکثر حکمران پائے جاتے ہیں جب کہ پرانے وقتوں میں یہ کوئی بھی ہو سکتا تھا۔ جب ہم کہتے ہیں کہ چین نے ترقی کی ہے تو ہمارے ذہنوں میں فوراً اس کا حکمران صدر آ جاتا ہے اور چائنا کی ترقی کا سہرا اس کے سر رکھتے ہیں، بالکل اسی طرح امریکہ، ترکی اور روس کی کہانی ہیں۔
جس ملک و قوم کے لوگوں کی قیادت بہترین شخصیات کر رہے ہوں کامیابی اس کے قدم ضرورت چھومتی ہے.
جس قوم و ملک کی قیادت اپنی ذاتی مفادات پیچھے رکھتی ہے اور ملکی مفادات آگے رکھتی ہے وہ امتیازی حثیت کے حامل بن جاتے ہیں۔ جس قوم کی قیادت خود کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہونا عار نہیں سمجھتے وہاں انصاف کا بول بالا ہو جاتا ہے، جس قوم وملک کی قیادت احتساب کے بول سے کتراتے نہیں وہاں غربت جنم نہیں لیتی ۔
الغرض جہاں قیادت مثالی ہوگی وہاں ترقی ہو گی اور جہاں ترقی ہو گی وہاں خوشحالی ہوگی جو کہ ہم سب کا نصب العین ہے۔


No comments: