Header Ads

Breaking News
recent

یوم عرفہ

 


سال کے بارہ مہینوں میں چار مہینے: محرم ، رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ جس طرح بڑے احترام وعظمت والے مہینے ہیں ( التوبہ :36 )ٹھیک اسی طرح دنوں میں چار دن: عیدین،  جمعہ اور عرفہ کے دن بڑے احترام والے دن ہیں، پھر ہفتہ بھر کے دنوں  میں افضل دن تو جمعہ کا  ہے ! لیکن سال بھر میں سب سے افضل ترین دن نو ذو لحجہ یعنی عرفہ کا دن ہے۔

نو ذولحجہ کا دن جس دن تمام حجاج کرام عرفات کے میدان میں قیام کرتے ہیں۔ وقوف عرفہ کو حج کا رکن اعظم بھی کہا جاتا ہے۔

یوم عرفہ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تمام حج کے مناسک سکھلائے، پھر کہا کیا آپ جان گئے کہ کس جگہ طواف کریں گے، کس جگہ سعی کریں گے، کس جگہ وقوف کریں گے، کس جگہ نحر اور رمی کریں گے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے جان لیا تو اس کی وجہ سے اس کو یوم عرفہ کہا گیا (البنایة: ۴/۲۱۱،) 


یوم عرفہ کو روزہ رکھنا مستحب اور ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے گناہوں کی معافی کا وعدہ ہے۔  (الدر المختار: ۳/۳۳۶،)

یوم عرفہ کے روزہ کے لئے سبب نو ذی الحجہ ہے اس لئے کہ حدیث میں یوم عرفہ آیا ہے اور یوم عرفہ نو ذی الحجہ کو ہوتا ہے۔

یوم عرفہ کی فضیلت:

عرفہ کے  دن روزہ رکھنے سے دوسال کے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں۔

احادیث میں یوم عرفہ کی بڑی فضیلت آئی ہے ایک طرف حجاج کے لئے وقوف عرفات کا دن ہے جس دن اللہ تعالی عرفات میں وقوف کرنے والوں پر فخر کرتا ہے اور کثرت سے انہیں جہنم سے رستگاری دیتا ہے تو دوسری طرف عام مسلمانوں کے لئے اس دن روزہ رکھنے کا حکم ملاہے جو ایک سال گذشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہوں کا کفارہ ہے ۔ 

چنانچہ ابوقتادہ رضي اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صیام عرفہ کےبارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا :

*يُكفِّرُ السنةَ الماضيةَ والباقيةَ*(صحيح مسلم:1162)

ترجمہ: یہ گذرے ہوئے اورآنے والے سال کے گناہوں کاکفارہ ہے ۔

ایک اور حدیثِ میں آیا ہے کہ  أنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ كانَ يَصومُ تسع ذي الحجَّةِ ، ويومَ عاشوراءَ ، وثلاثةَ أيَّامٍ من كلِّ شَهْرٍ ، أوَّلَ اثنينِ منَ الشَّهرِ وخَميس(صحيح أبي داود:2437)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کے ( پہلے ) نو دن ، عاشورہ محرم ، ہر مہینے میں تین دن اور ہر مہینے کے پہلے سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے ۔


حفیظ احمد 



No comments:

Powered by Blogger.