Header Ads

Breaking News
recent

کونڑ بانال (وادی کمراٹ)

 


کونڑ بانال 


جاز بانال دیر کوہستان کا مشہور تفریحی مقام ہے۔ "بانال" ہم داردی لوگ اپنی مادری زبان گاوری اور کلکوٹی میں گرمائی چراگاہ کو کہتے ہیں۔ جسے پشتو میں بانڈہ کہا جاتا ہے۔ کچھ دوست احباب جاز بانال کو بھی وادی کمراٹ کا حصہ سمجھتے ہیں لیکن درحقیقت کمراٹ تھل میں ہے اور جازبانال وادی جندری میں ہے۔ جاز بانال قدرتی حسن کا شاہکار ہے۔ یہاں اگر ایک طرف سرسبز وسیع میدان، گھنے جنگل( جنگل اور میدان دن بدن کم ہوتے جا رہے ہیں ) اور بلندی سے گرتے آبشار ہیں تو دوسری طرف گھان سر( کٹورہ جھیل) اور لوک سر کی خوبصورت جھیلیں یہاں کی قدرتی حسن کو چار چاند لگاتے ہیں۔ کونڑ یا کونڈ جاز بانال میں واقع ایک دلکش اور حسین علاقے کا نام ہے۔ جاز بانال میں بڑے میدان کے سامنے ایک دوسرا بڑا میدان نظر آتا ہے جسے بھینڑ کہا جاتا ہے۔اسی بھینڑ کے میدان میں چمرین ریسٹ ھاوس ہے۔ چمرین ریسٹ ھاوس سے نیچے نشیب کی طرف جو راستہ گیا ہے اس علاقے کونڑ بانال کہتے ہیں۔ کونڑ بانال میں دو آبشار ہیں کونڑ آبشار  اور چمرین آبشار ۔ جاز بانال سے مشرق کے طرف ایک  برف پوش پہاڑ اور بڑا سا گلیشئر نظر آتا ہے۔ گلیشئر کا پانی ایک بڑے آبشار کی شکل میں نیچے گرتا ہے۔ یہ پہاڑ چمرین کہلاتا ہے اسی مناسبت سے آبشار کو بھی چمرین آبشار کہتے ہیں۔ چمرین آبشار کا پانی کونڑ کے لمبوترے میدان میں زگ زیگ کی شکل میں بہتا ہوا نیچے کونڑ آبشار سے ملتا ہے۔ کونڑ آبشار جاز بانال کا ایک مشہور آبشار ہیں جسے کچھ لوگ جاز آبشار بھی کہتے ہیں۔ بلندی سے گرنے والے اس آبشار کا پانی گھان سر ( کٹورہ جھیل) اور لوک سر سے ہوکر آتا ہے۔ کونڑ کے مقام پر کونڑ آبشار اور چمرین آبشار کا پانی مل کر نیچے کے طرف بہتا ہے۔ نیچے آگے دو ڈھائی گھنٹوں کے مشکل ٹریک کے بعد یہ ایک اور بہت بڑے خوبصورت لیکن گمنام آبشار کو جنم دیتے ہیں جسے مقامی لوگ دنو پشکیر آبشار کہتے ہیں۔ دنو پشکیر آبشار کوہستان دیر کا سب سے بڑا آبشار ہے۔باہر کے کچھ دوستوں کے مطابق یہ نہ صرف دیر کوہستان کا سب سے بڑا آبشار ہے بلکہ پاکستان کا بھی سب سے بڑا آبشار ہے، واللہ ہو اعلم۔ دنو پشکیر آبشار کو باہر کے نہ ہونے کے برابر لوگوں نے دیکھا ہوگا، یہ ہنوز گمنامی کے پردوں میں چھپا ہوا ہے۔ چمرین آبشار سے لے کر کونڑ آبشار تک اس علاقے کو کونڑ بانال کہا جاتا ہے۔ برفپوش پہاڑوں اور گھنے جنگل کے درمیان ہرے بھرے لمبوترے میدان میں چھوٹی سی ندی جو کسی مدہوش ناگن کی طرح لہراتی بلکھاتی ہوئی گزتی ہے کو دیکھ کر اس علاقے پر جنت کا گمان ہوتا ہے۔ یہاں کے پہنچنے کے لئے  آپ کو دیر کوہستان آنا ہوگا۔ اگر آپ پنجاب کی طرف سے آرہے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے براستہ موٹروے چکدرہ تک آنا ہوگا۔ اگر آپ پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان وغیرہ کی طرف سے آرہے ہیں تو آپ کو پشاور سے براستہ موٹروے مردان یا تیمرگرہ آنا ہوگا۔ مردان، تیمرگر  سے روزانہ تھل کمراٹ کےلئے لوکل گاڑیاں جاتی ہیں۔ اگر آپ لوکل گاڑی میں آنا چاہتے ہیں تو مردان، تیمرگرہ سے لوکل گاڑی میں بیٹھ جائیں۔ اگر آپ کے پاس اپنی گاڑی ہے تو پھر آپ نے چکدرہ تک موٹروے پر انا ہوگا۔ چکدرہ کے مقام پر راستہ دو حصوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔ ایک راستہ سوات کی طرف اور ایک دیر بالا کی طرف نکلتا ہے۔ اگر آپ نے سوات کوہستان کی طرف سے آنا ہے تو پھر سوات کی طرف جانا ہوگا، چکدرہ سے سوات کی طرف نکلنے کے بعد سوات کوہستان کے صدر مقام بحرین آنا ہوگا۔ بحرین سے پھر آگے کالام اور پھر اتروڑ سے ہوکر باڈگوئی پاس کے ذریعے آپ تھل پہنچ سکتے ہیں، چکدرہ سے لے کر کالام تک ایک بہترین روڈ ہے، کالام سے آگے یعنی باڈگوئی پاس کا راستہ جیپ ٹریک ہے۔ اگر آپ کے پاس اپنی جیپ ہے تو سہی ورنہ اپنی گاڑی کالام میں پارک کرکے آپ نے وہاں سے جیپ ہائر کرکے تھل پہنچنا ہوگا۔ راستے میں آپ مدین، بحرین، کالام اتروڑ اور پھر آگے دشت لیلیٰ باڈگوئی جیسے خوبصورت علاقوں سے گزر کر تھل پہنچیں گے۔ اگر آپ نے دیر کی طرف سے آنا ہے تو پھر آپ نے سوات کی طرف جانے کے بجائے دیر اپر کے طرف آنا ہوگا۔ راستے میں تیمرگرہ سمیت دوسرے چھوٹے موٹے شہر، قصبے آئیں گے لیکن آپ نے سیدھا اپر دیر چکیاتن پہنچنا ہے۔ چکیاتن دیر شہر سے تقریباً پانچ یا چھ کلومیٹر پہلے آتا ہے، یہاں ایف سی کی ایک چیک پوسٹ ہے۔ چیک پوسٹ سے آگے سیدھے ہاتھ پر ایک بڑا گیٹ سا بنا ہوا ہے جس کے اوپر باب کمراٹ لکھا ہوگا جسے یادگار فرید شہید بھی کہتے ہیں۔ آپ نے اس گیٹ سے گزر کر دیر کوہستان کی طرف آنا ہوگا، آگے شرینگل نام کا ایک چھوٹا سا قصبہ آئے گا، چکیاتن سے لے کر شرینگل تک سڑک کی حالت بہت اچھی ہے، شرینگل سے آگےتھل تک روڈ اگرچہ اتنا بہتر نہیں ہے جتنا کہ ہونا چاہیئے تھا لیکن کار وغیرہ آرام سے آسکتی ہے۔ شرینگل سے آگے راجکوٹ (پاتراک) نام کا ایک گاوں آئے گا۔ اس کے بعد جار (بیاڑ) آئے گا۔ پھر آگے جاکر پیود پھر کلکوٹ اور پھر تھل آئے گا، تھل دیر کوہستان کا سب سے آخری گاوں ہے۔ تھل کے قدیم تاریخی مسجد جامع مسجد دارالاسلام کے سامنے دریائے پنجکوڑہ کے اوپر بنے پل کو کراس کرکے الٹے ہاتھ والا راستہ وادی کمراٹ کی طرف نکلتا ہے۔ اور سیدھے ہاتھ والا راستہ وادی جندری اور کالام سوات کوہستان کو جاتا ہے۔ اسی راستے پر آگے لاموتی کا گاوں آتا ہے وہاں مین روڈ کو چھوڑ کر نیچے لاموتی گاوں اترنا ہوگا کیونکہ مین روڈ وادی باڈگوئی کی طرف نکلتا ہے اور وہاں سے پھر آگے سوات کوہستان کے علاقے اتروڑ اور کالام بحرین تک جاتا ہے۔ لاموتی گاوں سے ایک روڈ سیدھا وادی جندری کو جاتا ہے۔ اسی روڈ پر آگے جاکر وادی جندری کا دندر علاقہ آتا ہے جہاں ہاشمی میوزیم ہے۔ وہاں سے یہ راستہ دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ اگر آپ نے پیدل جاز بانال جانا ہے تو آگے مین روڈ سے ایک راستہ نیچے نشیب کی طرف جاتا ہے، یہ ایربی چڑھائی والا پیدل ٹریک ہے۔ اس راستے پر آگے جاکر ایربی کی مشہور چڑھائی آتی ہے اور اس کے بعد کنڈیل شئی بانال اور پھر جاز بانال آتا ہے، یہ ٹوٹل پانچ سے چھ گھنٹوں کا پیدل ٹریک ہے۔ اس ٹریک پر کہیں راستہ ہموار ہے تو کہیں بالکل سیدھا اوپر چڑھائی ہے، سیدھے الفاظ میں یہ ایک مشکل اور تھکا دینے والا ٹریک ہے۔ اگر آپ پیدل نہیں جا سکتے یا آپ کے ساتھ فیملی ہے تو پھر آپ نے ھاشمی عجائب گھر کے قریب رکنے کے بجائے اسی روڈ پر سیدھا گامشیر پہنچنا ہوگا۔ گاوں گامشیر پہنچ کر آپ نے ایک بار پھر مین روڈ جو کہ ڈانکیر، سیری وغیرہ کی طرف جاتا ہے کو چھوڑ کر نیچے دریا کے اوپر بنے پل کو کراس کرکے ٹکی ٹاپ تک جانا ہوگا۔ ٹکی ٹاپ ایک قسم کا بیس کیمپ ہے جہاں پر گاڑیوں کی پارکنگ کے علاوہ ایک چھوٹا سا ہوٹل بھی ہے، یہاں پر آپ کو پورٹر، گائیڈ، خچر گھوڑے وغیرہ آسانی سے مل سکتے ہیں، اس کے علاوہ یہاں کھانے پینے کی چیزیں بھی دستیاب ہیں۔ وہاں سے آگے جاز بانڈہ تک ایک ڈیڑھ گھنٹے کا پیدل راستہ ہے۔ اس راستے پر ایک ہی چڑھائی ہے اور وہ بھی مشکل سے دس پندرہ منٹ کی اس کے بعد سیدھا ہموار راستہ ہے جس پر آپ آسانی سے جاز بانڈہ پہنچ سکتے ہیں۔ یہاں میں ایک بات کی وضاحت کردوں کہ بعض دوست گامشیر تک اپنی کار میں آتے ہیں اور پھر گامشیر میں اسے پارک کرکے پیدل ٹکی ٹاپ سے ہوکر جاز بانال جاتے ہیں۔ تھل سے گامشیر تک روڈ بہت اچھا تو نہیں ہے لیکن کار وغیرہ آسکتی ہے، اگر آپ نے گامشیر تک اپنی کار میں آنا ہے یعنی آپ نے جیپ میں نہیں آنا تو گامشیر تک اپنی گاڑی میں آسکتے ہیں، یہاں پارکنگ کی سہولت موجود ہے۔ علاقہ پر امن اور لوگ مہمان نواز ہیں۔ آپ بغیر کسی خوف و خطر کے اپنے فیملی کے ساتھ یہاں آکر کہیں بھی گھوم پھر سکتے ہیں۔۔


گمنام کوہستانی۔


کونڑ بانال کی چند تصاویر







No comments:

Powered by Blogger.