وادی کمراٹ مقامی انتظامیہ کہاں ہے؟؟
مقامی انتظامیہ کجا است؟ ۔
بظاہر کمراٹ ویلی سب ڈویژن شرینگل کا حصہ ہے لیکن مقامی انتظامیہ کی پہنچ صرف تھل تک ہے۔ آگے کمراٹ ویلی میں حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں مقامی انتظامیہ کے نزدیک صرف درخت کاٹنا ہی قانونی جرم ہے، اگر کوئی مقامی گھر بنانے یا سردیوں کے لئے درخت کاٹتا ہوا پکڑا جاتا ہے تو خوب فوٹو سیشن ہوتے ہیں۔ بڑے بڑے جرمانے ہوتے ہیں، جیلیں ہوتی ہیں۔ لیکن مہنگائی، مچھلیوں کا غیر قانونی شکار اور کچرا پھیلانا جرائم کے زمرے میں نہیں اتا۔ کمراٹ ویلی کے پھاٹک سے کالا پانی تک اس پورے علاقے میں عام سادہ روٹی 40 روپے سے لے کر 50 سو روپوں تک بکتی ہے۔ سادہ عام کپ چائے 40 سے 80 روپے میں جبکہ دال سبزی دو سو سے لے کر 800 تک فی پلیٹ ملتی ہے۔ پراٹھا 50 سے لے کر 100 تک میں مل جاتا ہے۔ مٹن کڑاہی 2600 سے لے کر 3000 تک اور چکن کڑاہی پندرہ سو سے لے کر دو ہزار میں ملتا ہے۔ ٹراوٹ فش کلو تین ہزار سے پانچ ہزار میں ملتا ہے۔ جال پر پابندی کے با وجود ٹراوٹ مچھلیاں کھلے عام دن دہاڑے پکڑی جاتی ہے۔ دن بھر دریائے پنجکوڑہ کے دونوں کناروں پر کئی شکاری شکار میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ہوٹل والے مچھلیاں ان شکاریوں سے خریدتے ہیں اور آگے کسٹمرز کو دیتے ہیں۔ پھاٹک سے لے کر کالا پانی تک اس پورے علاقے میں ڈسٹ بن وغیرہ ایک دو ہوٹلوں میں لگے ہوئے ہیں باقی سب اپنا کچرا جنگل میں چھپاتے ہیں یا دریائے پنجکوڑہ میں بہاتے ہیں۔ ہوٹل مالکان میں سے اکثریت کا تعلق باہر کے لوگوں سے ہیں اور وہ یہ سب کھلے عام کرتے ہیں۔ نہ مقامی لوگ کچھ بولتے ہیں اور نہ مقامی انتظامیہ کو وقت ملتا ہے کہ وہ یہاں قانون پر عمل در آمد کو یقینی بنائے۔ ہر ہوٹل، ہر جگہ اپنا الگ الگ قانون ہے کہیں بھی ریاست اور ریاستی قانون نظر نہیں آتا۔ پوچھنے پر مزے مزے کی کہانیاں سننے کو ملتی ہے۔ کسی کے نزدیک اس سال اس کا نقصان زیادہ ہوا ہے اس لئے کھانے پینے کی چیزیں مہنگی بیچ رہا ہے تو کوئی کرونا کو بہانہ بنا کر نقصان پورا کرنے کی کوشش میں ہے۔ بعض کے نزدیک اے سی اور ڈی سی کی پہنچ تھل تک ہے اور وہ صرف درخت کاٹنے کو جرم سمجھتے ہیں باقی اپنے معاملات میں وہ آزاد ہیں۔ سنی سنائی باتیں نہیں ہے بلکہ میں خود دو چار دن پہلے گیا تھا۔ خود سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ آبشار کے قریب ایک ہوٹل مالک سے شکایت کی تو جواب ملا وہ یہاں کمائی کے لئے آیا ہے۔ کمراٹ بدنام ہوتا ہے یا یہاں کے لوگ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح ایک دوسرے ہوٹل مالک کا خیال تھا کہ سیاحوں کے ساتھ زیادتی کی وجہ سے اس کا کوئی نقصان نہیں ہوتا، کیونکہ یہ اس کا لیز کا آخری سال ہے۔ بقول اس کے میری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیسے کما کر واپس جاو باقی کمراٹ بدنام ہو رہا ہے یا یہاں کے لوگ دونوں بھاڑ میں جائے۔ یہی حال مقامی ہوٹل مالکان کا بھی ہے۔ ایک کے مطابق پشاور کا ایک پٹھان 50 روپے میں روٹی بیچتا ہے تو وہ 20 تیس روپوں میں بیچ کر اپنا نقصان کیوں کرے ؟۔یقین کیجئے نمک منڈی پشاور کے کسی اچھے خاصے ہوٹل میں مٹن کڑاہی کھانے کے بعد جو بل بنتا ہے اس سے کمراٹ ویلی کی دال سبزی مہنگی ہے۔ ایک پلیٹ دال، دو پلیٹ لوبیا اور 12 روٹیوں کی قیمت 2400 روپے ہیں۔ میں نے خود کھائے ہیں، عام دال لوبیا اور عام روٹیاں تھی اور بل بنا 2400 روپے۔ کئی سیاحوں سے ملا، سب یہی کہہ رہے تھے کہ مقامی انتظامیہ روڈ نہیں بنا سکتی لیکن مہنگائی کو تو کنٹرول کر سکتی ہے۔ اگر مقامی انتظامیہ اتنی بے بس ہے کہ وہ عام ہوٹل والوں کو قانون پر عمل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی تو پھر مقامی لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سیاحوں کے ساتھ ہونے والے ان زیادتی کو روکیے۔ میں خود کئی لوگوں سے ملا سب یہی کہہ رہے تھے۔
شرینگل اور دیر خاص میں بیٹھے افسران بالا کے خدمت میں مودبانہ عرض ہے کہ اگر کمراٹ ویلی سب ڈویژن شرینگل کا حصہ ہے تو برائے مہربانی سیاحوں کے ساتھ ہونے والے ان زیادتیوں کو روکیے۔ صرف درخت کاٹنا جرم نہیں ہے بلکہ قانون کے مطابق جال سے مچھلی پکڑنا، بے جا مہنگائی اور سیاحتی مقامات پر کچرا پھیلانا بھی جرائم میں شمار ہوتے ہیں۔ مقامی سفید ریشوں سے بھی اپیل کی جاتی ہے کہ ان چند لوگوں کے وجہ سے مقامی لوگ اور علاقہ بدنام ہو رہا ہے۔ یہ ہمارا وطن ہے، ہم مہمان نواز لوگ ہیں۔ ہمارے علاقے میں کچھ لوگ کھلے عام مہمانوں کے ساتھ زیادتیاں کر رہے ہیں۔ آگے بڑھ کر اپنا فرض ادا کیجئے اور لوگوں کو ناجائز منافع خوری سے روک کر سیاحوں کو لوٹنے سے بچائیں۔۔
گمنام کوہستانی۔۔۔
عمران خان آزاد
کو فیس بک پہ فالو کرنے کیلئے لوگو پہ کلک کریں



No comments: