آئیے آپ کو جنت کی سیر کراؤں
تحریر: ھاشِم داؤد وزیر
پچھلے سال اگست کی 29 تاریخ کو میں کمراٹ میں تھا۔ ساری رات اللہ کی شان اور اُس کی قدرتوں کے اوپر غور کرتا رھا۔ رات کے کس پہر نیند آئی اور میں کس وقت سو گیا یہ پتہ نہیں چلا۔ اچانک میرا کیمپ تیز ھوا کی وجہ سے زور سے ھِلا اور میں جاگ گیا۔ کیمپ سے باھر نکلا تو منہ پہ پانی کے چھینٹے مارنے کے لئے چشمے کی طرف چلا گیا۔ کمراٹ کو اللہ نے اتنی خوب صورتی سے نوازا ھے کہ میرے جیسا بندہ اگر وھاں جائے تو بس دیکھتا ھی رہ جائے۔ ھر دس پندرہ میٹر کے فاصلے پر قدرتی چشمے بہہ رھے ھوتے ھیں۔
ایسے لگتا ھے جیسے آپ خواب دیکھ رھے ھیں اور خوابوں خوابوں میں آپ جنت پہنچ گئے ھیں۔ منہ پہ ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے تو اِس گھر پہ نظر پڑ گئی۔ دل تو بہت چاھا کہ اِس گھر کے اندر جاؤں اور اِسے اندر سے دیکھوں لیکن جب غور کیا تو پتہ چلا کہ اِس میں تو لوگ رہ رھے ھیں۔ وھیں بیٹھ کر اِس گھر کے بارے میں سوچنے لگ گیا اور سوچتے سوچتے اچانک برف باری کے عالم میں پہنچ گیا۔ جنوری کے آخری یا پھر فروری کے شروع کے دن ھیں اور میں اپنے تین دوستوں کے ساتھ اِس گھر کے اندر سُکڑ کے بیٹھا ھوا ھوں۔
باھر بہت زیادہ برف باری ھو رھی ھے اور اندر ٹھنڈ کی وجہ سے ھمارے جسم کانپ رھے ھیں۔ ھمارے پاس کھانے پینے اور چائے، کافی کا سارا سامان موجود ھے لیکن کسی کی ھمت نہیں ھو رھی کہ چائے یا کافی بنا دے۔ ھم چاروں نے سویٹر، جیکٹ اور دو دو جرابیں پہنی ھوئی ھیں۔ اوپر سے گرم شال بھی اوڑھی ھوئی ھے لیکن باھر برف باری کی وجہ سے جسم کے اندر کا ماحول اتنا ٹھنڈا ھے کہ کوئی اپنی جگہ سے ھِلنے کی کوشش نہیں کرتا۔
ھم چاروں اِس لئے خاموش بیٹھے ھیں کہ یہاں تھوڑی سی حرکت کی تو باھر کی ٹھنڈی ھوا شال کے اندر آ جائے گی۔ ایک دوسرے کو کتنی ٹھنڈ لگی ھوئی ھے یا باھر کتنی ٹھنڈ ھے، یہ محسوس کرنے کی کوشش کر رھے ھیں۔ میں تینوں کے چہروں کو دیکھتا ھوں تو پتہ چلتا ھے کہ تینوں میری طرف ایسے دیکھ رھے ھیں جیسے بچے کچن میں مصروف اپنی ماں کو دیکھتے ھیں کہ بس کھانا آیا ھی آیا۔ تینوں کے دیکھنے میں ایک درد ھے، ایک سوال ھے اور ایک فریاد ھے۔
تینوں میری طرف ایسی معصوم نظروں سے دیکھ رھے ھیں جیسے کہہ رھے ھوں کہ بھائی تو ھی اُٹھ جا اور کوئی چائے یا کافی بنا دے۔ میں اُٹھ کے دوسرے کمرے میں جاتا ھوں اور چُپکے سے سلنڈر کے اوپر چائے رکھ لیتا ھوں۔ جیسے ھی ھاتھ تھوڑے گرم ھوتے ھیں تو وھاں پر موجود لکڑی کے اوپر نظر پڑ جاتی ھے۔ مزید دیکھتا ھوں تو انگیٹی بھی لگی ھوئی ھے۔ انگیٹی میں آٹھ دس لکڑیاں رکھ کر آگ جلانے کی کوشش کرتا ھوں تو آگ لگ جاتی ھے۔ جب تک آگ تھوڑی سے تیز ھوتی ھے تب تک دودھ پتی بھی تیار ھوئی ھوتی ھے۔
اُبلی ھوئی دودھ پتی میں کافی کا ایک چمچ ڈال کر ساتھ والے کمرے میں بیٹھے تینوں دوستوں کو جا کے کہتا ھوں کہ آؤ تم تینوں کو کچھ دکھا دوں۔ تینوں مجھے غصے سے دیکھ کے چہرے چپھا لیتے ھیں اور کچھ بڑبڑا بھی لیتے ھیں۔ جیسے کہہ رھے ھوں کہ یہاں ھم ٹھنڈ سے مر رھے ھیں اور تجھے کچھ دکھانے کی پڑی ھے۔ اِس معاملے میں، میں بڑا ڈھیٹ واقع ھوا ھوں۔ دو کو اُٹھا نہیں سکتا کیونکہ دونوں کا وزن ماشاءاللہ تین تین مَن سے زیادہ ھے 🤣۔ لیکن ایک کو گودی میں اُٹھا کر دوسرے کمرے میں لے جاتا ھوں۔
وہ بہت گالیاں دیتا ھے کہ چھوڑ دے ڈیش ڈیش ڈیش😜۔ لیکن میں اسے انگیٹی کے پاس چارپائی پہ بٹھا دیتا ھوں۔ اُس کی چیخیں نکل جاتی ھیں اور باقی دونوں وہ چیخیں سن کر ایسے دوڑ کے آتے ھیں
جیسے ھم دونوں کو
ھالی ووڈ مووی کے
Anaconda
نے نِگل لیا ھو اور وہ دونوں ھمیں ایناکونڈا کے پیٹ سے نکال لیں گے۔ لیکن جیسے کمرے کے اندر داخل ھوتے ھیں تو اُن دونوں کی بھی چیخیں نکل جاتی ھیں۔ آپ اچانک منفی پندرہ ڈگری کی ٹھنڈ سے نکل کر تیس ڈگری کے ماحول میں آتے ھیں تو آپ کی Feelings بھی ایسی ھی ھوں گی جیسے اِن تین تین مَن وزنی لوگوں کی ھیں۔
تینوں کو دودھ پتی plus کافی کے مَگ پکڑاتا ھوں تو تینوں بہ یک زبان بولتے ھیں کہ اللہ تجھے خوب صورت بیوی دے۔ اور میں ایک گالی کے ساتھ کہتا ھوں کہ کمینوں Harley Davidson CVO کی دعا دے کر تم لوگوں کو موت آتی ھے؟ اور ھم چاروں مسکرا دیتے ھیں۔
اگر آپ کو سیاحت پہ بنا یہ مضمون پسند آیا تو کمنٹ ضرور کیجئے تاکہ اس طرح کے مضامین لاتے رہیں
اگر آپ ہمارے ویب سائٹ کی سیریز قرآن مجید اور جدید سائنس پڑھنا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کرنا مت بھولئے


Funny �� but well written
ReplyDelete