Header Ads

Breaking News
recent

قرآن کے سائنسی معجزات پارٹ 8, قرآن حکیم اور سائنس، کائنات کی وسعت و پھیلاؤ اور بگ بینگ تھیوری


ڈسکرپشن: اس مضمون میں کائنات کی ابتداء اور توسیع کی سب سے قبول شدہ سائنسی وضاحت اور قرآن مجید میں اس کی ابتداء اور وسعت کی تفصیل کے درمیان ارتباط کی وضاحت کی گئی ہے۔

ہہبل کا قانون


ہزاروں سالوں سے ، ماہرین فلکیات کائنات سے متعلق بنیادی سوالات کے ساتھ کشمکش میں رہے ہیں۔ 1920 کے اوائل تک ، یہ خیال کیا جاتا تھا کہ کائنات ہمیشہ سے موجود ہے یعنی اسکی کوئی ابتداء نہیں ہے۔ یہ بھی کہ کائنات کا سائز طے شدہ تھا اور تبدیل نہیں ہورہا.تاہم ، 1912 میں ، امریکی ماہر فلکیات ، ویسٹو سلفر نے ایک ایسی دریافت کی،جو جلد ہی کائنات کے بارے میں فلکیات کے ماہرین کے اعتقادات کو بدل دینے والی تھی۔ سلفر نے دیکھا کہ کہکشائیں بڑی رفتار سے زمین سے دور جارہی ہیں۔ ان مشاہدات نے توسیع کائنات کے نظریہ کی تائید کرنے میں پہلا ثبوت فراہم کیا[1]۔


ء1608 میں دوربین کی ایجاد سے پہلے انسان کائنات کی ابتدا کے بارے میں سوچ و بچار سے کم ہی کچھ کرسکتا تھا۔ (Courtesy: NASA)


ء 1916عیسوی میں ، البرٹ آئن اسٹائن نے اپنی جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی مرتب کی جس میں اشارہ کیا گیا تھا کہ کائنات کا توسیع ہونا یا سکڑنا ہونا ضروری ہے۔توسیع کائنات کے نظریہ کی تصدیق بالآخر 1929 میں معروف امریکی ماہر فلکیات ایڈون ہبل کے ہاتھوں ہوئی۔

کہکشاؤں میں سے خارج ہونے والی روشنی کی ویوو لینتھس میں ریڈ شفٹ کا مشاہدہ کرکے [2]، ہبل نے پایا کہ کہکشائیں ایک ہی جگہ فکس پوائنٹ پر رکی نہیں ہوئی۔ اس کے بجائے ، وہ دراصل زمین سے ان کے فاصلہ کے متناسب رفتار کے ساتھ ہم سے دور جارہی ہیں(ہبل کا قانون)۔ اس مشاہدے کی صرف ایک ہی وضاحت یہ تھی کہ کائنات کا پھیلنا ضروری ہے۔ ہبل کی دریافت کو علم فلکیات کی تاریخ میں سب سے بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔1929 میں ، اس نے ولاسٹی-ٹائم ریلیشن شائع کیا جو جدید کاسمولوجی/کائناتیات کی اساس ہے۔ آنے والے برسوں میں ، مزید مشاہدات کے ساتھ ، کائنات کے پھیلاؤ کے نظریہ کو سائنس دانوں اور ماہرین فلکیات نے یکساں طور پر قبول کرلیا.



ہوکر ٹیلی سکوپ کے ساتھ ، ہبل کو پتہ چلا کہ کہکشائیں ہم سے دور ہورہی ہیں۔ اوپر موجود تصاویر معلوم کہکشاؤں کی تصاویر ہیں۔ (Courtesy: NASA)


حیرت کی بات ہے کہ 14 سو سال قبل، دوربین کی ایجاد کرنے اور ہبل کے اپنا قانون شائع کرنے سے پہلے ہی، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو قرآن کی ایک آیت پڑھ کر سنایا کرتے تھے جس نے بتایا تھا کہ کائنات پھیل رہی ہے۔


وَ السَّمَآءَ بَنَیۡنٰہَا بِاَیۡىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوۡسِعُوۡنَ

اور آسمانی کائنات کو ہم نے بڑی قوت کے ذریعہ سے بنایا اور یقیناً ہم ( اس کائنات کو ) وسعت اور پھیلاؤ دیتے جا رہے ہیں.

سورت الذاریات، آیت 47


قرآن مجید کے نزول کے وقت ،لوگوں کو لفظ "خلاء" معلوم نہیں تھا ، اور لوگ زمین کے اوپر موجود چیزوں کی نشاندہی کرنے کے لئے "آسمان" کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ مذکورہ آیت میں لفظ "السماء " سے مراد خلاء یعنی کائناتی آسمان یا معروف کائنات ہے۔ یہ آیت اس کائنات یا خلاء کے پھیلاؤ کی نشاندھی کررہی ہے کہ جو کہ پھیل رہی ہے ، بلکل اسی طرح جس طرح ہبل کے قانون نے وضاحت کی ہے۔ بات کرنے کا مقصد یہ کہ قرآن نے پہلی دوربین کی ایجاد سے کئی صدی قبل اس حقیقت کا تذکرہ کیا، وہ بھی ایسے وقت میں جب سائنس میں قدیم تصوراتی علم زیادہ تھا۔ یہ بات ملحدین وغیرہ کے لئے زیادہ قابلِ غور ہونی چاہیے کہ، اپنے زمانے میں بہت سارے لوگوں کی طرح ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم بھی ناخواندہ تھے، اور پڑھ اور لکھ نہ سکنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی ان حقائق سے آگاہ نہیں ہوسکتے تھے،  یہاں تک کہ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے حقائق کے متعلق علم عطا کردے جو کہ اس وقت اس کائنات میں کوئی بھی نہیں جان سکتا تھا سوائے ان حقائق کے موجد کے ۔ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق اور ابتداء کامل کے متعلق علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوبخود ہی مل گیا ہو؟ تمام ملحدین حضرات کو میں اس سوال پر غور وفکر کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔


بگ بینگ تھیوری


ہبل نے اپنا نظریہ شائع کرنے کے فورا بعد، یہ دریافت کیا کہ نہ صرف کہکشائیں  زمین سے ہی دور جارہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے بھی دور ہورہی  ہیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کائنات ہر سمت پھیلتی جارہی ہے ،بلکل اسی طرح جس طرح  ہوا  بھرنے پر غبارہ پھیلتا ہے۔ ہبل کی نئی کھوج نے بگ بینگ تھیوری کی بنیاد رکھی۔
بگ بینگ تھیوری کے مطابق  لگ بھگ 12-15 بلین سال پہلے کائنات ایک انتہائی گرم اور ڈینس نقطہ سے وجود میں آئی تھی ، اور وہاں کوئی چیز موجود تھی جو اس نقطہ کو ایک عظیم دھماکے کے ساتھ پھٹنے کی وجہ بنی، جس کے ساتھ کائنات کا آغاز ہوا۔ کائنات ، تب سے ، اس واحد نقطہ سے پھیلتی چلی جارہی ہے۔ بعدازاں ، 1965 میں ، ریڈیو  آسٹرونومر ارونو پینزیاس اور رابرٹ ولسن نے نوبل پرائز جیتنے والی دریافت کی، جس نے بگ بینگ تھیوری کی تصدیق کی۔
ان کی دریافت سے پہلے ، اس (بگ بینگ) نظریہ نے یہ اشارہ کیا تھا کہ اگر وہ واحد نقطہ جس سے کائنات وجود میں آئی تھی ، اگر ابتداء میں وہ گرم تھا تو پھر اس حرارت کی باقیات کو تلاش کرنا چاہئے۔ وہ اس نقطہ کی حرارت کی باقیات ہی تھی،جو پینزیاس اور ولسن نے دریافت کی۔ 1965 میں ، پینزیاس اور ولسن نے 2.725 ڈگری کیلون کاسمک مائکروویو بیک گراؤنڈ ریڈی ایشن (سی ایم بی) دریافت کی جو کائنات میں پھیلا ہوا ہے۔ اس طرح ، یہ سمجھا گیا کہ، پایا ہوا ریڈی ایشن بگ بینگ کے ابتدائی مراحل کی باقیات ہے۔ فی الحال ، بگ بینگ تھیوری کو سائنس دانوں اور ماہرین فلکیات کی اکثریت نے قبول کیا ہے۔

بگ بینگ کی باقیات کا ایک مائکروویو نقشہ جس نے کائنات کو جنم دیا۔
(Courtesy: NASA)


کائنات کی ابتداء کے متعلق قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ۔۔۔۔۔
وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے۔۔۔۔
سورت الانعام آیت 101


اَوَ لَیۡسَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی  اَنۡ  یَّخۡلُقَ مِثۡلَہُمۡ   ؕ؃ بَلٰی ٭ وَ ہُوَ  الۡخَلّٰقُ  الۡعَلِیۡمُ
اِنَّمَاۤ  اَمۡرُہٗۤ   اِذَاۤ   اَرَادَ  شَیۡئًا اَنۡ یَّقُوۡلَ  لَہٗ کُنۡ  فَیَکُوۡنُ
اور کیا وہ جس نے آسمان اور زمین بنائے ان جیسے اور نہیں بنا سکتا کیوں نہیں اور وہی بڑا پیدا کرنے والا سب کچھ جانتا ،اس کا کام تو یہی ہے کہ جب کسی چیز کو چاہے تو اس سے فرمائے ہو جا وہ فوراً ہو جاتی ہے ،

مندرجہ بالا آیات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کائنات کا  آغاز ہوا ہے، یعنی یہ ہمشہ سے موجود نہیں تھی  ، اور اللہ تعالیٰ ہی اس کا خالق  ہے، اور جو کچھ اللہ تعالیٰ  نے تخلیق کیا ،اس کے کرنے  کے لئے اسے کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں پڑی سوائے اتنا کہنے کے، کہ  "ہو جا" اور وہ ہوگیا۔
 کیا یہ آیت اس بات کی وضاحت نہیں ہوسکتی ہے  کہ کائنات کی پیدائش کی وجہ بننے والے اس عظیم دھماکے  کا آغاز کس نے کیا؟

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

اَوَ لَمۡ  یَرَ الَّذِیۡنَ  کَفَرُوۡۤا  اَنَّ  السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ کَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰہُمَا ؕ وَ جَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ کُلَّ  شَیۡءٍ حَیٍّ ؕ اَفَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ

اور کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین  ( سب )  ایک اکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے پس ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا ،  اور ہم نے  ( زمین پر )  پیکرِ حیات  ( کی زندگی )  کی نمود پانی سے کی ،  تو کیا وہ  ( قرآن کے بیان کردہ اِن حقائق سے آگاہ ہو کر بھی )  ایمان نہیں لاتے
سورت النبیاء آیت 30.

پچھلی آیت کی وضاحت کرنے والے مسلم اسکالرز کا نظریہ تھا کہ کبھی آسمان اور زمین ایک تھے ، اور پھر رب العالمین نے ان کو الگ کرکے سات آسمانوں اور زمین میں تشکیل دیا۔ پھر بھی ، قرآن مجید کے نزول کے وقت سائنس اور ٹکنالوجی کی کمی کی وجہ سے  ، کوئی عالم بھی اس بارے میں زیادہ تفصیل نہیں دے سکا کہ آسمانوں اور زمین کو کس طرح خلق کیا گیا۔ علمائے کرام جو کچھ کرسکتے تھے  وہ یہ تھا کہ اس آیت میں عربی کے ہر لفظ کے عین معنی اور نیز آیت کے مجموعی معنی  کو بیان کرنا۔
پچھلی آیت میں عربی کے الفاظ "رَتْق" اور "فَتَقْ" استعمال ہوئے ہیں۔ 
لفظ "رَتْق" کو ان الفاظ "وجود" ، "سلائی کیا ہوا /سِلا ہوا" یا "بند" سے ترجمہ کیا جاتا ہے۔  ان ترجموں کے معنی ہر اس چیز کے گرد گردش کرتے ہیں جو مخلوط ہو اور اس کا الگ وجود ہو۔
فعل "فَتَقْ"  کا ترجمہ "ہم نے اُدھیڑ دیا" ،  "ہم نے  الگ کردیا" ، "ہم نے کھول دیا" یا "ہم نے پھاڑ دیا" ہے۔  ان معانی کا مطلب یہ ہے کہ  کوئی  چیز جو پھٹ پڑنے یا پھاڑ ڈالنے کے عمل کی  وجود سے میں آتی ہے۔ مٹی کو پھاڑتے ہوئے بیج کا اگنا فعل "فَتَقْ" کے معنی  کی ایک اچھی مثال ہے ۔

بگ بینگ تھیوری کے تعارف کے ساتھ ہی ، یہ جلد ہی مسلمان اسکالروں پر واضح ہوگیا کہ نظریہ کے حوالے سے مذکور تفصیلات قرآن مجید کی سورت النبیاء کی آیت نمبر 30 میں کائنات کی تخلیق کی تفصیل کے ساتھ بلکل مماثلت رکھتی ہیں۔

تھیوری میں کہا گیا ہے کہ کائنات کا سارا مادہ ایک انتہائی گرم اور ڈینس نقطہ سے وجود میں آیا تھا۔  جو پھٹ گیا اور کائنات کا آغاز ہوا ، آیت میں اس کا ذکر ملتا ہے کہ آسمان اور زمین (یعنی کائنات) ایک اکائی پر جڑے ہوئے تھے ، اور پھر الگ ہوگئے۔
ایک بار پھر ، اس بات کی واحد  وضاحت یہ ہے کہ یہ معلومات قرآن مجید میں حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واقعتا کائنات کو تخلیق کرنے والے واحد رب کی طرف بذریعہ وحی ملی تھیں۔
ہاشیہ
  1. The First Three Minutes, a Modern View of the Origin of the Universe, Weinberg.
  2. When the light an object emits is displaced toward the red end of the spectrum. (http://bjp.org.cn/apod/glossary.html)

No comments:

Powered by Blogger.