مولانا عبید اللہ سندھی
10 مارچ یوم پیدائش عبید اللہ سندھی۔
نام
ان کا پیدائشی نام بوٹا سنگھ تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام عبید اللہ رکھا۔
ولادت
عبید اللہ سندھی 10 مارچ 1872ء کو ضلع سیالکوٹ کے قریب ایک گاؤں ’’چیانوالی کے ایک سکھ خاندان میں اپنے والد کی وفات کے چار ماہ بعد پیدا ہوئے۔ دو سال کی عمر میں آپؒ کے دادا کا بھی انتقال ہو گیا تو ان کی والدہ انھیں لے کر اپنے والدین کے گھر جام پور ضلع ڈیرہ غازی خان چلی گئیں۔
قبول اسلام
1884ء میں آپ نے اپنے ایک ہم جماعت سے عالم دین مولانا عبید اللہ پائلی کی کتاب “تحفۃ الہند“ لے کر پڑھی۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد اس کے مصنف کے نام پر آپؒ نے اپنا نام ’’عبید اللہ‘‘ رکھا
اس کے بعد شاہ اسماعیل شہید (انہیں شہید کے نام سے یاد کیا جاتا ہے) کی کتاب “تقویۃ الایمان“ پڑھی اور یوں اسلام سے رغبت پیدا ہو گئی۔ 15 برس کی عمر میں 19 اگست 1887ء کو مشرف بہ اسلام ہوئے۔
تعلیم
1878ء میں چھ سال کی عمر میں جام پور میں تعلیم کا آغاز ہوا۔ آپؒ نے اپنے تعلیمی عرصے میں ریاضی، الجبرا، اُقلیدس اور تاریخِ ہند سے متعلق علوم بڑی دلچسپی سے پڑھے
اردو مڈل تک کی تعلیم آپ نے جام پور ضلع ڈیرہ غازی خان میں حاصل کی۔ پھر قبول اسلام کے بعد 1888ء میں دیوبند گئے اور وہاں دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور تفسیر و حدیث، فقہ و منطق و فلسفہ کی تکمیل کی۔
1888ء میں سید العارفین حضرت حافظ محمد صدیق بھر چونڈیؒ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ انھوں نے حضرت سندھیؒ کو اپنا بیٹا بنا کر توجۂ باطنی ڈالی۔ اس اجتماعِ صالح کی برکت سے مولانا سندھیؒ کے قلب میں معاشرتِ اسلامیہ راسخ ہو گئی۔ دو ماہ قیام کے بعد سید العارفین کے خلیفۂ اوّل حضرت مولانا ابوالسراج غلام محمدؒ کے پاس دین پور تشریف لے آئے۔ آپؒ کے اساتذۂ کرام میں مولانا عبد القادرؒ، مولانا خدا بخشؒ، مولانا احمد حسن کانپوریؒ (شاگرد حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ)، مولانا حافظ احمدؒ مہتمم دار العلوم دیوبند، حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ جیسے جید علمائے کرام شامل تھے۔ امتحان میں مولانا سید احمد دہلویؒ نے حضرت سندھیؒ کے جوابات کی بڑی تعریف کی اور فرمایا کہ: ’’اگر اس کو کتابیں ملیں تو یہ شاہ عبد العزیز ثانی ہوگا۔‘‘
جدوجھد۔
دہلی سے سندھ میں بھرچونڈی شریف پہنچے۔ حضرت شیخ الہندؒ سے درس و تدریس کا اجازت نامہ آگیا تھا۔ 1891ء میں مولانا ابوالحسن تاج محمود امروٹی ؒ کے پاس امروٹ ضلع سکھر تشریف لے گئے اور وہیں آپؒ کی شادی ہوئی۔ 1897ء تک امروٹ شریف میں کتب ِحدیث وتفسیر کی درس و تدریس اور مطالعۂ کتب میں مصروف رہے۔ اسی دوران نشر و اشاعت کا ایک ادارہ ’’ محمود المطابع‘‘ قائم کیا اور اس مطب محمود المطابع‘‘ قائم کیا اور اس مطبع سے سندھی زبان میں ایک ماہ نامہ ’’ہدایۃ الاخوان‘‘ کے نام سے شروع کیا۔ 1897ء میں حضرت شیخ الہندؒ نے انھیں سیاسی کام کرنے کا حکم دیا۔ 1901ء کو آپ نے صاحب العلم الثالث پیر رشیدالدینؒ کے ساتھ مل کر حیدر آباکے قریب ’’پیرجھنڈا‘‘ میں ایک مرکز ’’دارالرشاد‘‘ کے نام سے قائم کیا اور سات سال تک آپؒ نے علمی اور سیاسی کام سر انجام دیے۔ 1909ء میں سندھ سے آپؒ دیوبند منتقل ہو گئے اور ’’جمعیت الانصار ‘‘قائم کی۔ جس میں دار العلوم دیوبند کے فاضلین کی تعلیم و تربیت کا نظام اور تحریک ِحریت پیدا کرنے کے لیے اجلاسات منعقد کیے گئے۔
1913ء میں آپؒ نے قرآن حکیم کی تفسیر ’’الفوزالکبیر‘‘ کے اصولوں کی روشنی میں سمجھانے کے لیے دہلی میں ’’نظارۃ المعارف القرآنیہ‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا، جس کی سرپرستی حضرت شیخ الہندؒ، حکیم اجمل خان اور نواب وقار الملک نے کی۔
1915ء میں آپؒ حضرت شیخ الہندؒ کے حکم سے کابل جانے کے لیے روانہ ہوئے۔ سات سال کابل میں قیام پزیر رہے۔ اس دوران آپؒ نے ایک جماعت ’’جنودُ اللہ الربانیہ‘‘ کے نام سے قائم کی، جو ہندوستان، افغانستان کی آزادی کے لیے جدوجہد اور کوشش کرتی رہی۔ 1916ء میں کابل میں ’’عبوری حکومت ِہند‘‘ قائم کی اوراس کے وزیر خارجہ کے طور پر کام کرتے رہے۔ 1922ء میں آپؒ نے ’کانگریس کمیٹی کابل‘ بنائی اور اس کے صدر مقرر ہوئے۔ جس کا الحاق انڈین نیشنل کانگریس نے اپنے اجلاس منعقدہ ’’گیا‘‘ میں منظور کیا۔ 1922ء میں ترکی جانے کے لیے براستہ روس روانہ ہوئے۔ اس دوران ماسکو میں سات ماہ قیام فرمایا۔ 1923ء میں آپؒ انقرہ ترکی پہنچے۔ یہاں چار ماہ قیام فرمایا اور عصمت پاشا، رؤف بِک وغیرہ انقلابی رہنماؤں، نیزشیخ عبد العزیز جاویش سے ملاقاتیں ہوئیں۔ استنبول میں تین سال قیام فرماکر یورپ کی تاریخ کا بڑی گہری نظر سے مطالعہ فرمایا۔ 1924ء کو ہندوستان کے مستقبل کے سیاسی اور معاشی اُمور کو حل کرنے کے لیے ’’آزاد برصغیر کا دستور ی خاکہ‘‘ جاری فرمایا۔ استنبول سے اٹلی اور سوئٹزرلینڈ تشریف لے گئے اور کچھ عرصہ جدید اٹلی اور یورپ کی سیاسیات کا مطالعہ کیا۔ 1926ء میں مکۃ المکرمہ تشریف لائے اور دینی تعلیمات کی روشنی میں قومی جمہوری دور کے تقاضوں کے مطابق ایک پروگرام ترتیب دیا۔
انڈین نیشنل کانگریس، جمعیت علمائے ہند، مسلم لیگ اور دیگر قومی جماعتوں نے حضرت سندھیؒ کی ہندوستان واپسی کے لیے کوششیں شروع کیں۔ 1939ء کو آپؒ کراچی کی بندرگاہ پر اُترے۔ حکومت ِسندھ کے وزیر اعظم اللہ بخش سومرو نے عمائدین کے ساتھ آپؒ کا استقبال کیا اور کراچی میونسپل ہال میں آپ کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ جہاں آپؒ نے ایک اہم اور معرکہ آرا خطاب فرمایا۔ آپؒ کی واپسی پر جمعیت علمائے صوبہ بنگال کے اجتماع منعقدہ کلکتہ کا آپ کو صدر مقرر کیا گیا۔ آپ ؒ نے شاہ ولی اللہؒ کے فلسفے کو سمجھانے کے لیے دہلی، لاہور، کراچی، پیرجھنڈا اور دین پور میں بیت الحکمت کے مراکز کھولی، جہاں نہایت سرگرمی سے نوجوانوں کی تربیت فرماتے رہے۔ 1944ء میں بیماری کے باوجود حضرت سندھیؒ کراچی سے حیدرآباد، میرپور خاص اور نواب شاہ ہوتے ہوئے گوٹھ پیرجھنڈا مدرسہ دار الرشاد میں قیام فرما ہوئے۔ آپؒ آخری دم تک پروفیسرمحمدسرور، مولانا غلام مصطفی قاسمی، مولانا بشیر احمد لدھیانوی اور اپنے دیگر نام وَر شاگردوں کو تاریخ، سیاست اور قرآنی علوم و معارف سے آراستہ کرتے رہے۔
سندھی نسبت
مسلمان ہو کر بھرچونڈی شریف سکھر پہنچے جہاں حافظ الملت حافظ محمد صدیق سے ملے جو ان کے قبولِ اسلام کے جذبے سے بہت متاثر ہوےٴ اور انھوں نے اس نو مسلم کو اپنا روحانی فرزند بنا لیا حافظ الملت کی تربیت کا اثر یہ ہوا کہ اسلامی معاشرت انکی طبیعت ثانیہ بن گئی ان کو اپنے استاد کے ساتھ حد درجہ محبت تھی جس وجہ سے انھوں نے اپنے نام کے ساتھ سندھی لکھنا شروع کر دیا
اہم کارنامے
1901ء میں گوٹھ پیر جھنڈو میں دالارشاد قائم کیا اور سات برس تک تبلیغ اسلام میں منہمک رہے۔
1909ء میں اسیر مالٹا محمود الحسن کے حکم کی تعمیل میں دارالعلوم دیوبند گئے اور وہاں طلبہ کی تنظیم “جمیعت الانصار“ کے سلسلے میں اہم خدمات انجام دیں۔
1912ء میں دلی نظارۃ المعارف کے نام سے ایک مدرسہ جاری کیا جس نے اسلامی تعلیمات کی اشاعت میں بڑا کام کیا ہے۔
ترکی میں 1924ء میں اپنی ذمہ داری پر تحریک ولی اللہ کے تیسرے دور کا آغاز کیا۔ اس موقع پر آپ نے آزادئ ہند کا منشور استنبول سے شائع کیا۔
ترکی سے حجاز پہنچے اور 1939ء تک مکہ معظمہ میں رہے۔ اسی عرصہ میں انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق اور دینی مسئل کو تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ عوام تک پہنچایا۔
آپ نے تحریک ریشمی رومال میں سرگرم حصہ لیا۔
افغانستان کی آزادی کی سکیم آپ ہی نے مرتب فرمائی تھی، 25 سال تک جلاوطن رہے۔
افغانستان میں آل انڈیا کانگریس کی ایک باضابطہ شاخ قائم کی۔
ساری زندگی قائد حریت کی حیثیت سے اسلامی اور سیاسی خدمات انجام دیتے رہے
وفات
انتقال سے دو روز قبل دین پور تشریف لائے اور 2رمضان المبارک 1363ھ / 21 اگست 1944ء بروز منگل کو وِصال فرمایا۔ آپؒ کا مزار حضرت غلام محمد دین پوریؒ کے قریب دین پور کے قبرستان میں مرجع خلائق ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں اپنی خاص نعمتوں سے مالا مال فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)۔
حوالہ جات کے لیے مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ کرے
ذاتی ڈائری
خطبات و مقالات
شعور و آگہی
شاہ ولی اللہ اور ان کا فلسفہ
فکر ولی اللہی کا تاریخی تسلسل
قرآنی شعور انقلاب
قرآن کا مطالعہ کیسےکیا جائے
مجموعہ تفاسیر امام سندھی
شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک
تفسیر المقام المحمود
آپ کو یہ مضمون کیسا لگا کمنٹ کر کہ بتائیں
اگر آپ ہماری سیریز قرآن مجید کے سائنسی معجزے پڑھنا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں


No comments: