Header Ads

Breaking News
recent

واقعہ اصحاب کہف کچھ ناقابل یقین حقائق

 

مکہ مکرمہ کے کچھ سرداروں نے دو آدمی مدینہ منورہ کے یہودی علماء کے پاس یہ معلوم کرنے کے لیے بھیجے کہ تورات اور انجیل کے یہ علماء آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعوائے نبوت کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ یہودی علماء نے ان سے کہا کہ آپ حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تین سوالات کیجیے۔ اگر وہ ان کا صحیح جواب دے دیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ واقعی اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں اور اگر وہ صحیح جواب نہ دے سکے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کا نبوت کا دعوی صحیح نہیں ہے۔ پہلا سوال یہ تھا کہ ان نوجواں کا وہ عجیب واقعہ بیان کریں جو کسی زمانے میں شرک سے بچنے کے لیے اپنے شہر سے نکل کر کسی غار میں چھپ گئے تھے۔ دوسرے اس شخص کا حال بتائیں جس نے مشرق سے مغرب تک پوری دنیا کا سفر کیا تھا۔ تیسرے ان سے پوچھیں کہ روح کی حقیقت کیا ہے۔ چنانچہ یہ دونوں شخص مکہ مکرمہ واپس آئے، اور اپنی برادری کے لوگوں کو ساتھ لے کر انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ تین سوال پوچھے۔

پہلے سوال کا ذکر اللہ تعالیٰ اس طرح فرماتا ہے:

اَمۡ حَسِبۡتَ اَنَّ  اَصۡحٰبَ الۡکَہۡفِ وَ الرَّقِیۡمِ ۙ کَانُوۡا  مِنۡ  اٰیٰتِنَا  عَجَبًا ﴿۹﴾

کیا تو اپنے خیال میں غار اور کتبے والوں کو ہماری نشانیوں میں سے کوئی بہت عجیب نشانی سمجھ رہا ہے ۔  


جن لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان نوجوانوں کے بارے میں سوال کیا تھا، اُنہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اُن کا واقعہ بڑا عجیب ہے۔ اس آیت میں اُنہی کے حوالے سے یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ قدرت کے پیشِ نظر یہ واقعہ کوئی بہت عجیب نہیں ہے، کیونکہ اُس کی قدرت کے کرشمے تو بیشمار ہیں۔

ان حضرات کے واقعے کا خلاصہ قرآنِ کریم کے بیان کے مطابق یہ ہے کہ یہ کچھ نوجوان تھے جو ایک مشرک بادشاہ کے عہد حکومت میں توحید کے قائل تھے۔ بادشاہ نے ان کو توحید پر ایمان رکھنے کی بنا پر پریشان کیا تو یہ حضرات شہر سے نکل کر ایک غار میں چھپ گئے تھے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے ان پر گہری نیند طاری فرمادی، اور یہ تین سو نو(309) سال تک اُسی غار میں پڑے سوتے رہے۔ اس غار کا محل وقوع کچھ ایسا تھا کہ اس میں دھوپ نہیں آتی تھی۔ طلوع آفتاب کے وقت سورج اس کی دائیں جانب ہٹ کر نکل جاتا تھا اور غروب کے وقت بائیں جانب اور اس طرح یہ لوگ دھوپ کی تپش سے محفوظ بھی رہے اور اس سے ان کے جسم اور کپڑے بھی خراب نہیں ہوئے اور دھوپ کے قریب سے گذرنے کی وجہ سے گرمی کے فوائد بھی حاصل ہوتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس نیند کے دوران اپنی قدرت کاملہ سے ان کی زندگی کو بھی سلامت رکھا، اور اُن کے جسم بھی گلنے سڑنے سے محفوظ رہے۔ تین سو نو سال بعد اُن کی آنکھ کھلی تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی لمبی مدت تک سوتے رہے ہیں۔

قرآن مجید کی سورت کہف میں اس کے متعلق کچھ اسطرح اشارہ دیا گیا ہے:

وَ کَذٰلِکَ بَعَثۡنٰہُمۡ  لِیَتَسَآءَلُوۡا  بَیۡنَہُمۡ ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنۡہُمۡ کَمۡ لَبِثۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا لَبِثۡنَا یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ ؕ قَالُوۡا رَبُّکُمۡ  اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ ؕ فَابۡعَثُوۡۤا اَحَدَکُمۡ بِوَرِقِکُمۡ ہٰذِہٖۤ  اِلَی الۡمَدِیۡنَۃِ فَلۡیَنۡظُرۡ  اَیُّہَاۤ   اَزۡکٰی  طَعَامًا فَلۡیَاۡتِکُمۡ بِرِزۡقٍ مِّنۡہُ  وَ لۡـیَؔ‍‍‍تَلَطَّفۡ وَ لَا  یُشۡعِرَنَّ  بِکُمۡ  اَحَدًا ﴿۱۹﴾

اسی طرح ہم نے انہیں جگا کر اٹھا دیا  کہ آپس میں پوچھ گچھ کرلیں ۔  ایک کہنے والے نے کہا کہ کیوں بھئی تم کتنی دیر ٹھہرے رہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایک دن یا ایک دن سے بھی کم ، کہنے لگے کہ تمہارے ٹھہرے رہنے کا بخوبی علم اللہ تعالٰی ہی کو ہے ۔   اب  توتم اپنے میں سے کسی کو اپنی یہ چاندی دے کر شہر بھیجو وہ خوب دیکھ بھال لے کہ شہر کا کونسا کھانا پاکیزہ تر ہے  پھر اسی میں سے تمہارے کھانے کے لئے لے آئے ،  اور وہ بہت احتیاط اور نرمی برتے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے ۔  


مفسرین کے نزدیک

پاکیزہ کھانے سے مراد بظاہر حلال کھانا ہے ان حضرات کو فکر یہ تھی کہ بت پرستوں کے شہر میں حلال کھانا ملنا آسان نہیں۔ اس لیے جانے والے کو یہ تاکید کی کہ وہ ایسی جگہ سے کھانا لائے جہاں حلال کھانا میسر ہو۔ نیز چونکہ ان کے خیال میں ابھی تک اسی بت پرست بادشاہ کی حکومت تھی، اس لیے انہیں دوسری فکر یہ تھی کہ کہیں کسی کو ان کے غار میں چھپنے کا پتہ نہ لگ جائے۔ اس لیے جانے والے کو دوسری تاکید یہ کی کہ ہوشیاری سے جا کر کھانا لائے تاکہ ظالم بادشاہ کو پتہ نہ چل سکے۔ اللہ تعالیٰ کا کرنا یسا ہوا کہ اس تین سو سال کے عرصے میں وہ ظالم بادشاہ تو  مرکھپ گیا تھا، مگر اس کے بعد ایک نیک اور صحیح العقیدہ شخص بادشاہ بن چکا تھا۔ جب وہ صاحب، جن کا نام بعض روایتوں میں ’’تملیخا‘‘ بتایا گیا ہے کھانا لینے کے لئے شہر پہنچے، اور دکان دار کو وہ سکہ پیش کیا جو تین سو سال پُرانا تھا، اور اُس پر پُرانے بادشاہ کی علامتیں تھیں تو دُکان دار بڑا حیران ہوا، اس یہ لگا کہ شائد اس شخص کو کوئی پرانہ خزانہ ملا ہے،وہ  اِن صاحب کو لے کر اس وقت کے بادشاہ کے پاس پہنچا۔ بادشاہ کے پوچھنے پر انہوں نے اپنی آپ بیتی سنائی، یہ بادشاہ بہت نیک تھا، اور اس نے یہ قصہ سن رکھا تھا کہ کچھ نوجوان دقیانوس کے ظلم سے تنگ آ کر کہیں غائب ہوگئے تھے۔ اِس نے معاملے کی مزید تحقیق کی تو پتہ چل گیا کہ یہ وہی نوجوان ہیں، اس پر بادشاہ نے ان کا خوب اکرام کیا، لیکن یہ حضرات دوبارہ اسی غار میں چلے گئے اور وہیں پر اللہ تعالیٰ نے اُنہیں وفات دے دی۔  جیسا کہ پیچھے عرض کیا گیا، یہ حضرات جاگنے کے بعد جلد ہی اُسی غار میں وفات پاگئے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ کرشمہ سامنے آیا کہ جن نوجوانوں کو کبھی اِس شہر میں اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے، اب اُسی شہر میں ان کی ایسی عزت ہوئی کہ لوگ اُن کی یاد گار میں کوئی عمارت بنانے کی فکر میں پڑگئے۔ اور آخر کار جن لوگوں کو اقتدار حاصل تھا، اُنہوں نے یہ طے کیا کہ جس غار میں ان کی وفات ہوئی ہے، اُس پر ایک مسجد بنا دیں۔ واضح رہے کہ عمان کے پاس جو غار دریافت ہوا ہے، اُس میں کھدائی کرنے سے غار کے اوپر بنی ہوئی ایک مسجد بھی بر آمد ہوئی ہے لیکن یہ واقعی انہی لوگوں کی ہے،اس متعلق اللہ بہتر جانتا ہے۔ عیسائیوں کے یہاں یہ واقعہ ’’سات سونے والوں‘‘ (Seven Sleepers) کے نام سے مشہور ہے۔ معروف مؤرخ ایڈورڈ گبن نے اپنی مشہور کتاب ’’زَوال و سقوطِ سلطنتِ رُوم‘‘ میں بیان کیا ہے کہ وہ ظالم بادشاہ ڈوسیس تھا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروؤں پر ظلم ڈھانے میں بہت مشہور ہے۔ اور یہ واقعہ ترکی کے شہر افسس میں پیش آیا تھا۔ جس بادشاہ کے زمانے میں یہ حضرت بیدار ہوئے، گبن کے بیان کے مطابق وہ تھیوڈوسیس تھا۔ مسلمان مؤرخین اور مفسرین نے بھی اس سے ملتی جلتی تفصیلات بیان فرمائی ہیں، اور ظالم بادشاہ کا نام دقیانوس ذکر کیا ہے۔ ہمارے دور کے بعض محققین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اُردُن کے شہر عمان کے قریب پیش آیا تھا جہاں ایک غار میں کچھ لاشیں اب تک موجود ہیں۔ یہ تحقیق  تفصیل کے ساتھ کتاب ’’جہانِ دیدہ‘‘ میں بیان  ہے(اگر آپ اس کتاب کا پی ڈی ایف فری میں حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں) لیکن ان میں سے کوئی بات بھی اتنی مستند نہیں ہے کہ اس پر بھروسہ کیا جاسکے۔ قرآنِ کریم کا اُسلوب یہ ہے کہ وہ کسی واقعے کی اُتنی ہی تفصیل بیان فرماتا ہے جو فائدہ مند ہو۔ اس سے زیادہ تفصیلات میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ان حضرات کو ’’اصحاب الکہف‘‘ (غار والے) کہنے کی وجہ تو ظاہر ہے کہ اُنہوں نے غار میں پناہ لی تھی۔ لیکن ان کو ’’رقیم‘‘ والے کیوں کہتے ہیں؟ اس کے بارے میں مفسرین کی رائیں مختلف ہیں۔ بعض حضرات کا کہنا یہ ہے کہ ’’رقیم‘‘ اُس غار کے نیچے والی وادی کا نام ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ’’رقیم‘‘ تختی پر لکھے ہوئے کتبے کو کہتے ہیں، اور ان حضرات کے انتقال کے بعد اُن کے نام ایک تختی پر کتبے کی صورت میں لکھوا دئیے گئے تھے، اس لئے ان کو ’’اصحاب الرقیم‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ تیسرے بعض حضرات کا خیال ہے کہ یہ اُس پہاڑ کا نام ہے جس پر وہ غار واقع تھا۔ واللہ سبحانہ اعلم۔


اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ۫ وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیۡتَ وَ قُلۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّہۡدِیَنِ رَبِّیۡ لِاَقۡرَبَ مِنۡ ہٰذَا  رَشَدًا ﴿۲۴﴾

اور ہرگز کسی بات کو نہ کہنا کہ میں کل یہ کر دوں گا مگر یہ کہ اللہ چاہے اور اپنے رب کی یاد کر جب تو بھول جائے اور یوں کہو کہ قریب ہے میرا رب مجھے اس سے نزدیک تر راستی کی راہ دکھائے ،


جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اصحاب کہف اور ذُولقرنین کے بارے میں سوال کیا گیا تھا، اُس وقت آپ نے سوال کرنے والوں سے ایک طرح کا وعدہ کرلیا تھا کہ میں اِس سوال کا جواب کل دوں گا، اُس وقت آپ ان شا اللہ کہنا بھول گئے تھے اور آپ کو یہ امید تھی کہ کل تک وحی کے ذریعے آپ کو ان واقعات سے باخبر کردیا جائے گا، اس واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ مستقل ہدایت عطا فرمائی کہ کسی بھی مسلمان کو آئندہ کے بارے میں کوئی بات ’’ان شا اللہ‘‘ کہے بغیر نہیں کہنی چاہئے، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس معاملے میں چونکہ آپ نے ’’اِن شا اللہ‘‘ نہیں فرمایا تھا، اس لئے اگلے روز وحی نہیں آئی، بلکہ کئی روز کے بعد وحی آئی اور اُس میں یہ ہدایت بھی دی گئی۔


(اگر آپ مزید دو سوالوں کے جوابات کے متعلق مضمون پڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں کمینٹ سیکشن میں بتائیں)

اس واقعے نے انسان کو گھما کہ رکھ دیا ہے کچھ لوگ اسے ٹائم ٹریولنگ قرار دے رہے ہیں جبکہ  کچھ اس کو نیند ہی قرار دے رہے 


اصحاب کہف کے سونے کا ایک خیالی خاکہ 

دوستو ہمیں سوشل میڈیا کے دیگر سائٹس / یوٹیوب پہ سپورٹ کریں 





No comments:

Powered by Blogger.